انضمام ہی کپتان رہیں گے: شہریار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان نے کہا ہے کہ پرتھ ٹیسٹ میچ میں ناقص کارکردگی کا ذمہ دار انضمام الحق کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ اس دورے سے پہلے پاکستان ٹیم کی کارکردگی بہتر رہی ہے اور خاص طور پر بھارت کو پاکستان ٹیم نے لگاتار چار بار شکست دی۔ شہر یار خان نے کہا کہ پاکستان کی ٹیم اور کرکٹ بورڈ دونوں ہی انضمام کی عزت کرتے ہیں اور پرتھ ٹیسٹ میں اس بری ترین ہار سے گو کہ ہمیں بہت مایوسی ہوئی تاہم ایسا لیڈر شپ کی کمی سے نہیں ہوا دراصل یہ کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے اور ہمارے کھلاڑی آسٹریلوی بالرز کے دباؤ میں آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں انضمام کی کپتانی پر مکمل اعتماد ہے اسی لیے انہیں آسٹریلیا کی سیریز کے بعد بھارت اور ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں بھی انضمام ہی کپتانی کے فرائض انجام دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ اگر آسٹریلیا کے خلاف اگلے ٹیسٹ میچز میں بھی پاکستان کی کارکردگی اتنی ہی بری رہی تو کیا پھر بھی انضمام کو کپتان رکھنے کے اپنے فیصلے پر آپ قائم رہیں گے اس پر پی سی بی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹیم اب ایسی کارکردگی نہیں دکھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم میں قابلیت ہے اور وہ ضرور فائیٹ بیک کریں گے اور اگر وہ اگلے میچ ہارے بھی تو اس طرح نہیں ہاریں گے بلکہ آسٹریلیا کو کڑا مقابلہ دیں گے لہذا ابھی سے یہ طے کرنا کہ ٹیم کی کارکردگی بری ہوئی تو کیا قدم اٹھایا جائے گا قبل از وقت ہوگا۔ ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرد توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی شکست کی ایک وجہ تو کھلاڑیوں کا مجموعی رویہ ہے ان پر آسٹریلیا کے بالرز کی دہشت سوار ہے۔ پی سی بی کے سابق سربراہ نے مزید کہا کہ اس موقع پر انضمام کو چاہیے تھا کہ ٹیم کا حوصلہ بلند کرے تاہم وہ خود اپنی کمر پکڑ کر بیٹھ گئے یہاں تک کہ ایسا لگتا تھا کہ بین الاقوامی کرکٹ کا اتنا طویل تجربہ رکھنے والے پاکستان کے اس کپتان کے اپنے حواس بھی قابو میں نہیں۔ توقیر ضیاء کے بقول ٹیم کی اس ناقص کارکردگی کے پیچھے لیڈر شپ کی کمی بہر طور محسوس کی جا سکتی ہے۔ مبصرین کرکٹ بھی انضمام کی کپتانی پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کا سنہری دور ہمیشہ اس وقت آیا جب ٹیم کا کپتان کوئی فاسٹ بالر ہوتا ہے۔ عبدالحفیظ کاردار، عمران خان اور وسیم اکرم اس کی واضح مثال ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||