سیریز پر سینیٹ کمیٹی کا اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک بھارت سیریز پر اٹھنے والے اعتراضات کی جانچ کے لیے سینیٹ کی سٹیڈنگ کمیٹی کا چوتھا اجلاس ہفتے کے روز اسلام آباد میں ہوا۔ اس اجلاس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ یہ اس سلسلے کا آخری اجلاس ہو گا تاہم یہ آخری ثابت نہ ہو سکا کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ضروری مواد فراہم نہ کر سکا۔ البتہ اس اجلاس کا ماحول گزشتہ تین اجلاسوں سے مختلف تھا۔ گزشتہ اجلاسوں کی نسبت ماحول کافی دوستانہ تھا اور وہ گرماگرمی اور تلخی نہ تھی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ اس اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کو پاک بھارت کرکٹ سیریز کے میچز فکس کرنے کے الزامات سے بھی بری کر دیا گیا پاکستان ٹیم پر الزام تھا کہ اس نے دوستی سیریز کے سلسلے میں جان بوجھ کر میچز ہارے۔ پی سی بی کے آئین کو مقررہ وقت میں نہ بنانے کے اعتراض کے جواب میں پی سی بی کے چیئرمین شہر یار خان نے یقین دھانی کرائی کہ وہ جسٹس کرامت بھنڈاری سے بات کر کے ستائیس دسمبر تک آئین کی تکمیل کی حتمی تاریخ دے دیں گے۔ پاک بھارت سیریز کے دوران دیے گئے کانٹریکٹ اور دوسرے مالی معاملات کی جانچ کے لیے فرگاسن نامی آزاد کمپنی آڈٹ کر رہی ہے۔ ابھی اس کمپنی کی حتمی رپورٹ تیار نہیں ہوئی اس رپورٹ کے تیار ہونے کے بعد سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کا اگلا اجلاس لاہور میں ہوگا۔ یہ اجلاس اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ میں متوقع ہے۔ سنیچر کو ہونے والے اس اجلاس میں سینیٹر انور بیگ کے اصرار پر پاکستان ٹیم کے غیر ملکی کوچ باب وولمر کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی دستاویز کمیٹی کو دکھائی گئیں جبکہ اس کی کاپی فراہم نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں کمیٹی کے چیئرمین ظفر اقبال چوہدری کا کہنا تھا کا دستاویز دکھانا کافی تھا جبکہ سینیٹر انور بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس کانٹریکٹ کی کاپی کمیٹی کو فراہم کرنی چاھیے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ دیکھنا چاھتے ہیں کہ باب وولمر کو کن شرائط پر رکھا گیا اور آیا یہ شرائط مناسب ہیں یا نہیں۔ انور بیگ نے کہا کہ اس اجلاس میں بھی پی سی بی کے اہلکار پاک بھارت سیریز کے دوران دی گئی ایک کروڑ بیس لاکھ کی مفت ٹکٹوں کی تفصیل بتانے سے قاصر رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||