پاکستان 491 رنز سے ہار گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا نے پرتھ میں کھیلا جانے والا پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو چار سو اکانوے رنز سے شکست دے دی ہے۔ پاکستان کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں کھانے کے وقفت سے پہلے اکتیس اعشاریہ تین اوور میں صرف 72 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ آسٹریلیا کے بالر گلین میگراتھ کی تباہ کن بالنگ کے سامنے پاکستان کا کوئی کھلاڑی جم کر نہیں کھیل سکا اور دوسری اننگز میں میگراتھ نےاس کے آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔انہوں نے کل 16 اوور کرائے ہیں جن میں سے آٹھ میڈن رہے۔انہوں نے صرف چوبیس رنز دیئے اور آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔جبکہ کیسپروچ نے باقی کی دو وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کو میچ جیتنے کے لیے پانچ سو چونسٹھ رنز کا ہدف ملا تھا۔آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز پانچ کھلاڑیوں کے نقصان پر تین سو اکسٹھ رنز بنا کر ڈیکلئیر کر دی تھی۔ پاکستان کی جانب سے صرف دو کھلاڑی ہی ڈبل فگرز یعنی دس سے زیادہ سکور بنا سکے۔ یوسف یوحنا نے سب سے زیادہ 27 رن بنائے جبکہ یونس خان نے 17 سکور کیا۔ کپتان انضمام الحق صفر پر آؤٹ ہوئے۔کامران اکمل بھی کوئی رن نہ بنا پائے۔ عمران فرحت، عبدالرزاق اور شیعب اختر نے ایک ایک رن بنایا۔ پرتھ ٹیسٹ میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ جیٹین لینگر کو دیا گیا جنہوں نے پہلی اننگز میں سنچری بنائی تھی اور دوسری اننگز میں ستانوے سکور کیا تھا۔ اتوار کی صبح جب کھیل شروع ہوا تو پاکستان کا سکور اٹھارہ رن تھا اور اس کی ایک وکٹ گری تھی۔ لیکن اتوار کو ابتدا ہی سے پاکستان کافی دباؤ میں تھا۔ پاکستان کی ٹیم کو دن کا پہلا نقصان اس وقت ہوا جب سلمان بٹ نو رنز پر میکگراتھ کی گیند پر میتھیو ہیڈن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ بارہویں اوور میں یونس خان جو پہلی اننگز میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے، میگراتھ کی ہی گیند پر وارن کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ انہوں نے سترہ رنز بنائے۔ اس وقت پاکستان کا سکور تینتالیس تھا۔ اگلی ہی گیند پر کپتان انضمام الحق بھی میگراتھ کا شکار بن گئے اور زیرو پر آؤٹ ہوگئے۔اس وقت سکور بورڈ پر پاکستان کے صرف اننچاس رنز تھے۔ لیکن جب اکیسویں اوور میں پاکستان کا مجموعی سکور اکسٹھ رنز پر پہنچا تو کامران اکمل بغیر کوئی رن بنائے میگراتھ کی گیند پر کلارک کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ تئیسویں اوور میں پاکستان کو اس وقت ایک اور نقصان پہنچا جب یوسف یوحنا بھی میگراتھ کے بالنگ پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے ستائیس رنز بنائے۔ پاکستان کی آٹھویں وکٹ چھبیسویں اوور میں اس وقت گری جب کیسپروچ نے محمد سمیع کو بولڈ کر دیا۔ اس وقت پاکستان کا سکور چھیاسٹھ تھا۔ محمد وسمیع صرف دو رنز بنا سکے۔ ان کے بعد شیعب اختر میکگراتھ کی گیند پر لیمن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔انہوں نے اکیس گیندوں کا سامنا کیا مگر صرف ایک رن بنا سکے۔ پاکستان کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی محمد خلیل تھے جنہوں نے پانچ رنز بنائے۔ دانش کنیریا آؤٹ نہیں ہوئے۔ آسٹریلیا کی جانب سے ڈیمئین مارٹن نے سنچری بنائی اور آؤٹ نہیں ہوئے۔ میچ کے دوسرے دن ، آسٹریلیا کی پہلی اننگز کے تین سو اکیاسی رنز کے جواب میں پاکستان کی ٹیم ایک سو اناسی رنز پر آوٹ ہوگئی تھی۔ پاکستان کی جانب سے یونس خان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز قابلِ ذکر کارکردگی نہ دکھا سکا۔ یونس خان نے بیالیس رنز بنائے۔ سلمان بٹ (سترہ)، کپتان انضمام الحق (ایک)، یوسف یوحنا (ایک)، عبدلرزاق (اکیس)، کامران اکمل (دو) محمد خلیل (صفر)، محمد سمیع (انتیس) اور شعیب اختر (ستائیس) رنز بنا کر آوٹ ہوئے۔ آسٹریلیا کے مائیکل کاسپروچ سب سے کامیاب باؤلر تھے انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا کی ٹیم : رکی پونٹنگ، جسٹن لینگر، میتھیو ہیڈن، ڈیمن مارٹن، ڈیرن لہیمن، مائیکل کلارک، ایڈر گلکرسٹ، شین وان، جیسن گلپسی، مائیکل کیسپروچ اور گلین میگرا پر مشتمل ہے۔ پاکستان کی ٹیم: انضمام الحق، عمران فرحت، سلمان بٹ، یونس خان، یوسف یوحنا، عبدالرزاق، کامران اکمل، شعیب اختر، دانس کنریا، محمد سمیع اور محمد خلیل۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||