’آسٹریلیا کا دورہ ضرور کروں گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاسٹ بولر شعیب اختر نے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے ساتھ معاہدے کی شقوں پر چند اعتراضات کے باوجود آسٹریلیا کا دورہ ضرور کریں گے۔ شعیب اختر نے کہا کہ اس کے کنٹریکٹ پر اختلافات کوئی زیادہ نہیں ہیں اور وہ معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے وکیل سے مشورہ کرنا چاہتے ہیں۔ ’کنٹریکٹ ایک مختلف مسئلہ ہے اور میں ٹیم کے ساتھ آسٹریلیا کے دورے پر روانہ ہوں گا‘ پاکستان کی ٹیم سات دسمبر سے آسٹریلیا کا دورہ شروع کرنے والی ہے جس کے دوران تین ٹیسٹ میچ اور سہ ملکی ون ڈے ٹورنامنٹ کھیلا جائے گا۔ شعیب اختر کرکٹ بورڈ کے کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کی ایک شق سے مطمئن نہیں ہیں جس کے تحت وہ کسی اسپانسر کے ساتھ معاہدہ نہیں کرسکتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سترہ کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ پیش کردیا ہے جس پر شعیب اختر کے سوا دیگر تمام کھلاڑیوں نے دستخط کردیے ہیں۔ شعیب اختر کے مطابق پیپسی کی حد تک یہ بات سمجھ میں آتی ہے جس کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے معاہدہ ہے اور کھلاڑی پیپسی کے متوازی کسی مشروب سے معاہدہ نہیں کرسکتے لیکن انہیں کسی دیگر اسپانسر کی تشہیر سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ فرض کریں کہ انہیں کوئی آفر ہوتی ہے اور وہ معاہدے میں دلچسپی میں رکھتے ہیں لیکن بورڈ اجازت نہیں دیتا تو پھر کیا ہوگا؟ پاکستان کرکٹ بورڈ نے جن سترہ کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ پیش کیے ہیں ان میں انضمام الحق، یوسف یوحنا، شعیب اختر اور عبدالرزاق اے کٹیگری میں شامل ہیں۔ بی کٹیگری میں شعیب ملک، شاہد آفریدی، محمد سمیع اور یونس خان کو رکھا گیا ہے جبکہ دانش کنیریا، عاصم کمال، عمران فرحت، یاسرحمید، سلمان بٹ، کامران اکمل، رانا نویدالحسن ، شبیراحمد اور توفیق عمر سی کٹیگری میں شامل ہیں۔ نئے کھلاڑیوں محمد آصف اور محمد خلیل کو کنٹریکٹ آفر نہیں کیا گیا ہے۔ اے کیٹگری میں شامل کرکٹرز کو ہرماہ دولاکھ روپے، بی کیٹگری کے کرکٹرز کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے اور سی کیٹگری کے کرکٹرز کو پچہتر ہزار روپے ملیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||