BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 November, 2004, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شعیب کنٹریکٹ سے ناخوش

 شعیب اختر ایکشن میں
شعیب اختر ایکشن میں
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سترہ کرکٹرز کو سینٹرل کنٹریکٹ پیش کردیا ہے جس پر شعیب اختر کے سوا دیگر تمام کھلاڑیوں نے دستخط کردیے ہیں۔

شعیب اختر کنٹریکٹ کی ایک شق سے مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے کہا ہے کہ وہ اپنے قانونی مشیر سے صلاح مشورے کے بعد ہی کنٹریکٹ پر دستخط کریں گے۔

شعیب اختر اس سینٹرل کنٹریکٹ میں کھلاڑیوں کو پابند کیے جانے پر خوش نہیں کہ وہ کسی اسپانسر کے ساتھ معاہدہ نہیں کرسکتے۔

شعیب اختر کے مطابق پیپسی کی حد تک یہ بات سمجھ میں آتی ہے جس کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے معاہدہ ہے اور کھلاڑی پیپسی کے متوازی کسی مشروب سے معاہدہ نہیں کرسکتے لیکن انہیں کسی دیگر اسپانسر کی تشہیر سے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ فرض کریں کہ انہیں کوئی آفر ہوتی ہے اور وہ معاہدے میں دلچسپی میں رکھتے ہیں لیکن بورڈ اجازت نہیں دیتا تو پھر کیا ہوگا؟

اس سینٹرل کنٹریکٹ پر کرکٹ کے حلقوں کی طرف سے شدید اعتراضات سامنے آئے ہیں کہ اس طرح کے کنٹریکٹس ان ممالک میں قابل عمل ہیں جہاں کھلاڑی کسی ادارے میں ملازمت نہیں کرتے اور ان ملکوں کے کرکٹ بورڈز انہیں ہر ماہ تنخواہ دیتے ہیں۔

جبکہ پاکستان میں تمام ہی کرکٹرز کسی نہ کسی ادارے کی طرف سے کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی میچ فیس اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔

پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سینٹرل کنٹریکٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ دوسرا اعتراض یہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ وہ کئی ماہ سے اس کنٹریکٹ کو حتمی شکل دینے میں مصروف رہنے کے بعد اسے ہر کرکٹر کے لئے قابل قبول بناچکا ہے تو اس پر دستخط ٹیم کی آسٹریلوی روانگی والے روز کیوں کرائے گئے جس پر شعیب اختر کے اعتراض والی صورتحال سامنے آگئی۔

مبصرین اسے پاکستان کرکٹ بورڈ کی عجلت پسندی قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو یا تو آسٹریلیا کے دورے سے بہت پہلے طے کرلینا چاہئے تھا یا پھر آسٹریلیا کے دورے کے بعد اسے نمٹایا جاسکتا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جن سترہ کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ پیش کیے ہیں ان میں انضمام الحق، یوسف یوحنا، شعیب اختر اور عبدالرزاق اے کٹیگری میں شامل ہیں۔ بی کٹیگری میں شعیب ملک، شاہد آفریدی، محمد سمیع اور یونس خان کو رکھا گیا ہے جبکہ دانش کنیریا، عاصم کمال، عمران فرحت، یاسرحمید، سلمان بٹ، کامران اکمل، رانا نویدالحسن ، شبیراحمد اور توفیق عمر سی کٹیگری میں شامل ہیں۔

نئے کھلاڑیوں محمد آصف اور محمد خلیل کو کنٹریکٹ آفر نہیں کیا گیا ہے۔ اے کیٹگری میں شامل کرکٹرز کو ہرماہ دولاکھ روپے، بی کیٹگری کے کرکٹرز کو ایک لاکھ پچیس ہزار روپے اور سی کیٹگری کے کرکٹرز کو پچہتر ہزار روپے ملیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد