سری لنکا پر پاکستان کی فتح | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک بڑے اسکور کا تعاقب کرتے ہوئے جیت تک پہنچنے کا فن آگیا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کی فلڈ لٹ میں جیت کے لیے درکار 294 رنز اس نے4 وکٹوں کے نقصان پر بناکر سہ فریقی ون ڈے سیریز میں سری لنکا کو دوسری مرتبہ شکست دیدی اس نے کراچی میں کھیلے گئے میچ میں ایشین ٹائیگرز کو آٹھ وکٹوں سے ہرایا تھا۔ یہ دوسرا بڑا اسکور ہے جو پاکستانی ٹیم نے دوسری بیٹنگ میں بناتے ہوئے میچ جیتا ہے اس سے قبل98-1997ء میں اس نے کمبرلی جنوبی افریقہ میں سری لنکا ہی کے خلاف چھ وکٹوں پر300 رنز بناکر کامیابی حاصل کی تھی۔ دونوں ٹیمیں اب ہفتے کو اسی اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں مدمقابل ہوں گی۔ پاکستان کی جیت کی بنیاد اوپنرز سلمان بٹ اور یاسر حمید نے99 رنز کے ساتھ رکھ دی تھی۔ یاسر حمید جو اس سیریز کی تین اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے صفر، صفر اور تیرہ رنز ہی بناسکے تھے۔ اس میچ میں جارحانہ موڈ میں کھیلتے ہوئے انہوں نے چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے48 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے جو بنگلہ دیش کے خلاف ایشیا کپ میں سنچری کے بعد گزشتہ 13 اننگز میں ان کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ جے سوریا اور واس نےصفر اور تیرہ رنز پر ان کے کیچز ڈراپ کیے۔ سلمان بٹ نے اپنے چوتھے ون ڈے میں پہلی نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے57 رنز بنائے وہ بھی سترہ رنز پر جے وردھنے کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے تھے۔ شعیب ملک حسب معمول ون ڈاؤن پوزیشن پر 56 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر اپنا کام کرگئے جس کے بعد تجربہ کار انضمام الحق اور یوسف یوحنا نے 74 رنز کی شراکت کے ذریعے جیت تک پہنچنا آسان کردیا ۔ یوسف یوحنا 30 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انضمام الحق نے ون ڈے میں 72 ویں نصف سنچری مکمل کرتے ہوئے76 رنز ناٹ آؤٹ کی خوبصورت اننگز کھیلی۔ اس سے قبل غیرمؤثر بولنگ اور غیرمعیاری فیلڈنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سری لنکا نے6 وکٹوں کے نقصان پر293 رنز بنائے تھے۔ مہمان ٹیم کی اننگز کی خاص بات کپتان مرون اتاپتو کی شاندار سنچری تھی۔ انضمام الحق نے ٹاس جیت کر سری لنکا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ رانا نویدالحسن دونوں اوپنرز کو26 کے مجموعی اسکور پر پویلین کی راہ دکھانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ سمن جیانتھا9 رنز بناکر معین خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے جبکہ سنتھ جے سوریا 10 رنز بناکر ایل بی ڈبلیو ہوئے لیکن اس کے بعد کپتان مرون اتاپتو اور کمار سنگاکارا کے درمیان تیسری وکٹ کی شراکت میں بننے والے شاندار146 رنز نے سری لنکا کی پوزیشن مستحکم بنادی۔ کمارسنگاکارا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں18 ویں نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد 69 رنز بناکرشاہد آفریدی کی گیند پر معین خان کے ہاتھوں اسٹمپڈ ہوگئے۔ سنگاکارا پر قسمت کی دیوی مہربان رہی 54 کے اسکور پر ان کے دو کیچ ڈراپ ہوئے۔ پہلے عبدالرزاق کی گیند پر یاسرحمید اور پھر شاہد آفریدی کی گیند پر محمد سمیع ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔ مرون اتاپتو بھی31 کے اسکور پر شعیب ملک کی گیند پر یاسرحمید کے ہاتھوں کیچ ہونے سے بچے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں گیارہویں سنچری مکمل کی پاکستان کے خلاف یہ ان کی تیسری سنچری ہے۔ وہ 111 رنز بناکر رن آؤٹ ہوئے۔ پاکستانی بولنگ بھی فیلڈنگ کی طرح خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ شعیب اختر پرانی گیند کے ساتھ غیرموثر رہے اور چار اوورز میں30 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ انضمام الحق نے شعیب اختر کو چار اوورز کے بعد بولنگ ہی نہیں دی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||