شعیب کی بورڈ کے سامنے پیشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے تیز ترین بالر شعیب اختر پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ میڈیکل کمیشن کے سامنے پیش ہو رہے ہیں ۔ یہ کمیشن شیعب اختر کی پنڈی ٹیسٹ میچ کے دوران ہونے والی پراسرار انجری کی جانچ پڑتال کررہا ہے۔ شیعب اختر راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے دن بالنگ کرتے ہوئے ہاتھ کے بل گر گئے تھے اور تیسرے دن کمر اور کلائی کی تکلیف بتا کر بالنگ کرنے نہ آئے تاہم میچ کے چوتھے روز انہوں نے بیٹنگ کی اور زور دار چوکے اور چھکے لگائے جس سے ان کی انجری مشکوک ہوگئی۔ کپتان انضمام اور کھیل سے وابستہ حلقوں نےاس پر کڑی تنقید کی جس پر پی سی بی نے یہ میڈیکل کمیشن قائم کیا۔ میڈیکل کمیشن آغا خان یونیورسٹی، کراچی کے آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالواحد، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے شعبہ آرتھوپیڈک کے سابق سربراہ ڈاکٹر نصیر احمد، قومی کرکٹ ٹیم کے ڈاکٹر ریاض اور جونير کرکٹ ٹیم کے ڈاکٹر سہیل سلیم پر مشتمل ہے۔ میڈیکل کمیشن نے بدھ کی صبح شیعب اختر کو شوکت خانم کینسر اسپتال میں بون سکین کے لیے بھجوایا جہاں سے وہ کافی دیر بعدلوٹے۔ اب وہ کمیشن کے سامنے آج ہی دوبارہ پیش ہوں گے۔ پیش ہونے سے پہلے شیعب نے کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں اور وہ کمیشن کو سب صحیح صحیح بتائیں گے۔ کمیشن پاک بھارت سیریز کے دوران شیعب اختر کے علاوہ عبدارزاق، معین خان، شبیر احمد اور عمر گل کو ہونے والی انجریز کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
ابھی تک بورڈ کے سامنے پاکستان ٹیم کے وکٹ کیپر معین خان اور آل راؤنڈر عبدالرزاق پیش ہوئے ہیں۔ عمر گل اتوار کو ہونے والے کمیشن کے پہلے اجلاس میں پیش ہو ئے تھے۔ جبکہ سیریز میں زخمی ہونے والے ایک اور کھلاڑی فاسٹ بالر شبیر احمد اپنی میڈیکل رپورٹس پی سی بی کو دینے کے بعد پہلے ہی کاؤنٹی چمپئن شپ میں گلوسٹر شائر کی نمائندگی کرنے کے لیے برطانیہ جا چکے ہیں۔ معین خان نے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تکلیف سے چھٹکارا پانے کے بعد اپنی تربیت کا آغاز کر چکے ہیں تاہم وہ کمیشن کی جانب سے فٹ نس برقرار رکھنے کے لیے دی گئی ہدایات پر کاربند رہیں گے۔ آج دوسرے پیش ہونے والے کھلاڑی عبدالرزاق نے اپنی پیشی کو بڑا حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ یہ دونوں کھلاڑی ملتان ٹیسٹ میچ میں زخمی ہونے کے بعد سیریز کے بقیہ میچ نہیں کھیل سکے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||