انکوائری کمیشن کی تشکیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے فاسٹ بولر شعیب اختر سمیت پانچ کھلاڑیوں کی فٹنس کا جائزہ لینے کے لئے چار رکنی میڈیکل انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ فاسٹ بولر شعیب اختر اتوار کو اس کمیشن کے سامنے پیش ہونگے ۔ کمیشن آغا خان اسپتال کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبدالواجد، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے آرتھو پیڈک ڈپارٹمنٹ کے سابق سربراہ ڈاکٹر نصیر احمد ، پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈاکٹر ریاض احمد اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈاکٹرز پینل کے ڈاکٹر سہیل سلیم پر مشتمل ہے۔ کمیشن شعیب اختر کے علاوہ معین خان عمرگل شبیراحمد اور عبدالرزاق کی فٹنس کا بھی جائزہ لے گا ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیز راجہ کے مطابق کمیشن کے قیام کامقصد شعیب اخترکے خلاف انتقامی کارروائی نہیں ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ کے دوران شعیب اختر ہاتھ اور پھر کمر کی تکلیف کی شکایت کرتے ہوئے میدان سے باہر چلے گئے تھے اور وہ بھارت کی پوری اننگز میں بولنگ نہیں کرسکے تھے لیکن حیران کن طور پر بیٹنگ کے لئے آئے تھے جس پر کپتان انضمام الحق نے ان کے رویئے پر کڑی تنقید کی تھی ۔ کپتان انضمام الحق نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹرینر ڈاکٹر توصیف رزاق کے رویئے کی بھی کرکٹ بورڈ سے شکایت کی تھی جو بقول ان کے شعیب اختر کو نیٹ پریکٹس کے بجائے انڈور جمنیزیم میں ٹریننگ کرانے پر بضد رہے ۔ ڈاکٹر توصیف رزاق نے چند روز قبل پاکستان کرکٹ ٹیم سےعلیحدگی اختیار کرلی ہے ۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ جاوید میانداد اور منیجر ہارون رشید نے منگل کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان سے اہم ملاقات کی جس میں بھارت کے خلاف حالیہ سیریز میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی زیرغور آئی ۔ ملاقات کے بعد ان تینوں نے صحافیوں کو تفصیلات بتانے سے انکار کردیا لیکن انتہائی مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے بعض کرکٹرز کے رویوں پر بھی بات ہوئی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین پہلے ہی کپتان انضمام الحق اور ٹیم منیجمنٹ پر مکمل اعتماد ظاہر کرچکے ہیں۔ جاوید میانداد کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے 2005 تک معاہدہ ہے جبکہ ہارون رشید سے معاہدہ اس ماہ ختم ہورہا ہے ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||