کرکٹ کو تنظیم ِ نو کی ضرورت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سیریز سے ایک بات تو یہ ثابت ہوئی کہ بھارت کی ٹیم بہتر ہو رہی ہے۔ ان کے انیس سالہ پٹیل اور عرفان پٹھان جیسے نوجوان کلاڑیوں کی کارکردگی کو دیکھ کر یہ لگتا ہے کہ بھارت میں مقامی کرکٹ اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے نکھار رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی کرکٹ ابتری کی طرف مائل ہے۔ ہمارے عظیم کھلاڑیوں نے جو خلاء چھوڑا، وہ ابھی تک پر نہیں کیا جا سکا۔ کوئی اچھے کھلاڑی ابھر کر سامنے نہیں آ رہے۔ ہمارے کھلاڑیوں میں صلاحیت تو نظر آ رہی ہے لیکن ان میں ٹیمپرامنٹ اور تکنیک کی کمی نظر آتی ہے۔ اسی کمی کی وجہ سے پاکستانی ٹیم دباؤ کا مقابلہ نہیں کر سکی۔ پاکستان کی مقامی کرکٹ ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کے کھلاڑی تیار نہیں کر رہی۔ ستر کی دہائی کے سارے عظیم کھلاڑی، خاص طور پر بیٹسمین، کاؤنٹی کرکٹ کی پیداوار ہیں۔ بولر کے مقابلے میں بیٹسمین تیار کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے کیونکہ بیٹسمین کی تکنیک بننے میں دیر لگتی ہے۔ ہمارے سارے عظیم بیٹسمین ماجد خان، صادق محمد، ظہیر عباس، مشتاق محمد، میانداد اور آصف اقبال سب کاؤنٹی کرکٹ کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کھلاڑیوں پر کافی عرصہ پاکستانی بیٹنگ کا دارومدار رہا۔ لیکن اب یہ نظر آتا ہے کہ موجودہ کھلاڑی خالصتاً مقامی کرکٹ کی پیداوار ہیں۔ پاکستان کی وکٹیں بیٹنگ کے لئے مشکل نہیں تھیں اور بھارت کے بولرز بھی کوئی عالمی معیار کے نہیں تھے۔ لیکن جس طرح انہوں نے پاکستانی بیٹنگ کو دو ٹیسٹ میچوں میں آؤٹ کیا، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی بیٹنگ دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی مقامی کرکٹ میں سوائے انضمام کے، کوئی عالمی سطح کا کھلاڑی نہیں نکل رہا۔ بھارتی ٹیم میں جذبہ پاکستانی ٹیم سے زیادہ نظر آیا ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں نے ہر موقع پر اپنی ٹیم کو مشکل مرحلوں سے نکالا اور آخری گیند تک مقابلہ کیا۔ میرے خیال میں پاکستانی ٹیم اپنی صلاحیتوں کے مطابق نہیں کھیلی۔ ہمیں اپنی بولنگ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں جو پوری نہیں ہو سکیں۔ پاکستانی بولنگ کے ناکام ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو ہماری حکمت عملی۔ ملتان میں وکٹ سے گھاس غائب کر کے اسے بیٹنگ وکٹ بنا دیا گیا۔ بھارت کی بیٹنگ ہی ان کی طاقت تھی۔ انہوں نے وہاں سات سو رنز بنائے جس سے ہمارے بولرز کا اعتماد متزلزل ہو گیا۔ ہم نے بے جان وکٹ بنانے کی منفی حکمت عملی اپنا کر اپنی بولنگ کی طاقت خود ہی ختم کر دی۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کےکپتان، کوچ اور مینجر سب بیٹسمین ہیں۔ کوئی سینیئر بولر بھی ٹیم میں نہ تھا۔ جیسے میں نے پہلے بھی کہا کہ پاکستانی ٹیم کو بولنگ کوچ کی ضرورت ہے۔ صرف بولر ہی بولنگ کو سمجھ سکتا ہے۔ ہمارے ناتجربہ کار بولروں کی رہنمائی کسی نے نہیں کی۔ اگر عمرگل لاہور میں اچھی بولنگ نہ کرتے تو شاید ہم وہ میچ بھی نہ جیت پاتے۔ ہماری شکست سے ہماری غلطیاں ہمارے سامنے آ گئیں ہیں۔ سب سے پہلے پاکستان کا کرکٹ کا مقامی ڈھانچہ ٹھیک کیا جانا چا ہیے۔ پچھلے آٹھ سال میں کئی بیٹسمین دو چار ٹیسٹ کھیل کر ٹیم سے باہر ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مقامی کرکٹ ان کی صلاحیتوں کو نکھار نہیں سکی۔ ہمیں چاہیے کہ مقامی کرکٹ کو علاقائی کرکٹ کے خطوط پر استوار کیا جائے اور کرکٹ بورڈ کو ایک ادارے کی طرح آئین کے مطابق چلایا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||