بھارت کا پلہ بھاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی میں کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ کا توازن تیسرے دن کے اختتام پر بھارت کے حق میں ہو گیا ہے۔ دراصل پاکستانی ٹیم بہت تھوڑے سکور پر آؤٹ ہو گئی۔ جب ایک ٹیم دو سو رنز کے قریب آؤٹ ہو جائے تو اس ٹیم کے لئے بہت اچھی بالنگ کے ذریعے ہی میچ میں واپس آنا ممکن ہوتا ہے۔ میرے خیال میں پاکستانی ٹیم کے لئے صبح کے وقت ہی موقع تھا۔ اگر پاکستانی ٹیم صبح کے وقت ہی دو تین وکٹیں لے لیتی تو پھر اس بات کا امکان تھا کہ بھارت کو ایک ایسے سکور تک محدود کیا جا سکتا تھا جس سے پاکستانی ٹیم کو میچ میں واپس آنے کا موقع مل سکتا۔ پہلے روز صبح کے وقت نہ صرف گیند سوئنگ کر رہی تھی بلکہ وکٹ پر نمی ہونے کی وجہ سے گیند موو بھی ہو رہی تھی۔ لیکن اصل موومنٹ ہوا میں ہوتی ہے۔ بھارت کے سونگ بولرز نے ہوا میں نمی اور وکٹ پر گھاس کو بڑی اچھی طرح استعمال کیا۔ پاکستان کے بولر بنیادی طور پر تیز بولرز ہیں اور سوئنگ بولرز نہیں ہیں۔ جب ان کی بالنگ کی باری آئی تو ایک تو وکٹ خشک ہو گئی تھی اور اس میں جو نمی تھی وہ بھی ختم ہوگئی تھی۔ اب پاکستانی ٹیم کے لئے بڑا مشکل ہے کہ وہ میچ میں واپس آسکے۔ پاکستان یا تو میچ برابر کرنے کی کوشش کرے گا یا میچ ہارے گا۔ بھارت کا اس میچ میں ہارنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||