بھارت کی پوزیشن مستحکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غیرمؤثر بولنگ اور غیرمعیاری فیلڈنگ نے پاکستان کے لئے راولپنڈی ٹیسٹ کو مشکل سے مشکل تر بنادیا ہے۔ دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے پر بھارت نے4 وکٹوں کے نقصان پر342 رنز بناکر118 رنز کی اہم برتری حاصل کرلی ہے۔ کپتان سوروگنگولی 53اور قابل اعتماد راہول ڈریوڈ134 رنز پر کریز پر موجود ہیں۔ پاکستانی بولرز پہلے ایک گھنٹے میں وکٹ کی نمی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہ ہوسکے جس کی توقع کی جارہی تھی۔ تجربہ کار راہول ڈراوڈ کے ساتھ حوصلہ پکڑتے ہوئے وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل نے بھی بڑے اعتماد سے بیٹنگ کی۔ پٹیل جنہوں نے لاہور ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں نصف سنچری بنائی تھی کریئر بیسٹ 69 رنز بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے ڈراوڈ کے ساتھ دوسری وکٹ کی شراکت میں 129 رنز کا اضافہ کیا۔ فضل اکبر کے ہاتھوں ان کی وکٹ گرنے کے فوراً بعد پاکستانی کھلاڑیوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب شعیب اختر نے ماسٹر بیٹسمین سچن تندولکر کو ایک رن کے اسکور پر وکٹ کے پیچھے کیچ کرادیا۔ ملتان ٹیسٹ میں 194 رنز ناٹ آؤٹ کی شاندار اننگز کے بعد سچن تندولکر ٹیسٹ سیریز میں بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ لاہور ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں وہ 2 اور 8 رنز ہی بناسکے تھے۔ ایک رن کے اضافے پر دو وکٹوں کی کاری ضرب کے بعد پاکستانی بولرز کی جانب سے بھارتی بیٹسمینوں پر جس دباؤ کی توقع کی جارہی تھی وہ نظرنہ آسکا جس کا نتیجہ ڈراوڈ اور لکشمن کی 131 رنز کی شاندار شراکت کی صورت میں سامنے آیا۔ ملتان اور لاہور میں دونوں بیٹسمین بڑے اسکور نہیں کرسکے تھے۔ یہاں وہ یہ حساب برابر کرنے میں کامیاب رہے۔ لکشمن 71 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر شعیب اختر کی سیدھی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ راہول ڈراوڈ نے ایک بار پھر بھارتی بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی کا کردار بخوبی نبھایا اور 78 ویں ٹیسٹ میں 17 ویں اور پاکستان کے خلاف پہلی سنچری اسکور کی لیکن وہ دو سخت مراحل سے گزر کر تین ہندسوں تک پہنچے۔ 71 رنز پر سمیع کی گیند پر یاسرحمید نے ان کا کیچ ڈراپ کردیا اور 77 رنز پر ٹی وی امپائر کی مدد حاصل کئے جانے کے بعد وہ دانش کنیریا کی گیند پر کامران اکمل کے ہاتھوں آؤٹ نہیں دیئے گئے۔ پاکستان ٹیم کی مایوس کن فیلڈنگ کا ایک اور نظارہ فضل اکبر کی گیند پر عمران فرحت کے ہاتھوں پارتھیو پٹیل کا بچ نکلنا تھا اسوقت ان کا اسکور 67 تھا۔ پاکستان ٹیم کو دو دھچکے اس وقت لگے جب شعیب اختر گیند کرتے ہوئے فالوتھرو میں گرگئے۔ بائیں ہاتھ میں چوٹ لگنے کے سبب انہیں میدان سے باہر جانا پڑاجبکہ گنگولی کا تیز شاٹ دائیں کلائی پر لگنے کے نتیجے میں عاصم کمال کو بھی میدان چھوڑنا پڑا۔ تیسرے دن کا پہلا سیشن اس لحاظ سے اہم ہوگا کہ اگر پاکستانی بولنگ بھارتی ٹیم کو جلد آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوگئی تو میچ میں اس کے موجود رہنے کے امکانات روشن رہیں گے بصورت دیگر بڑھتی ہوئی برتری میں پاکستان ٹیم کے لئے سرابھارنا مشکل ہوجائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||