BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 April, 2004, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وقار یونس: کرکٹ سے ریٹائر

وقار یونس
وقار یونس نے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے
دنیائے کرکٹ پر اپنی تیز رفتار سوئنگ اور خطرناک یارکر سے حکمرانی کرنے والے وقار یونس نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

وقار یونس نے ریٹائرمنٹ کا اعلان پیر کو اسلام آباد میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا جس میں پاکستان اور بھارت کی یادگار سیریز کی کوریج کرنے والے صحافی موجود تھے۔ اس موقع پر وقار یونس نے پہلے تحریرشدہ بیان پڑھ کر سنایا اور پھر سوالات کے جواب دیئے۔

وقار یونس 2003 ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے جس میں وہ پہلے مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی۔ ورلڈ کپ کے بعد وہ کھیلنے کی خواہش کے باوجود دوبارہ ٹیم میں منتخب نہ ہوسکے۔ وقار یونس سے قبل ورلڈ کپ اسکواڈ میں شامل سعید انور اور وسیم اکرم انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔

وقاریونس نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے ورلڈ کپ کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ انہوں نے غلط لوگوں پر بھروسہ کیا لیکن وہ اس موقع پر اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتے تاہم وہ اپنے پورے کریئر کا احاطہ سوانح حیات میں کرینگے۔

وقار یونس کو اس بات کا افسوس ہے کہ ورلڈ کپ ان کے لئے نہیں بنا۔ 1992 میں وہ اپنے عروج پر تھے لیکن پاکستان کی شاندار جیت کا حصہ نہ بن سکے ۔ 1996 میں پاکستان ٹیم کوارٹرفائنل میں بھارت سے ہارگئی۔ 1999 میں وہ صرف بنگلہ دیش کے خلاف میچ ہی کھیل سکے اور 2003 میں ان کی قیادت میں پاکستان ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ وسیم اکرم سے مسابقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے فائدہ مند رہی اور دونوں کی عمدہ بولنگ سے کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

بورے والا ایکسپریس کے نام سے مشہور وقاریونس جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 373 اور ون ڈے انٹرنیشنل میں 416 وکٹیں حاصل کیں کہتے ہیں کہ کرکٹ نے انہیں سب کچھ دیا وہ یقینا پاکستان کرکٹ کو اپنا تجربہ واپس لوٹانے کے خواہش مند ہیں۔

وقاریونس کو گلہ ہے کہ جس آرٹ کو اب دنیا ریورس سوئنگ کہتی ہے جب انہوں نے ایسا کیا تو اسے بال ٹمپرنگ کے نام سے پکارا گیا۔ یہ فن انہوں نے کالج کے زمانے میں سیکھا تھا جس میں عمران خان اور وسیم اکرم کے ساتھ مزید پختگی آئی۔

وقار یونس کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن اور انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے کی بولنگ انہیں ہمیشہ یاد رہتی ہے وہ یقینا بڑے خطرناک اسپیل تھے۔

کس بیٹسمین کو آؤٹ کرکے مزا آیا؟ اس سوال پر مسکراتے ہوئے وقار یونس کا جواب تھا کہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں اجے جدیجا کو آؤٹ کرکے انہیں مزا آیا تھا کیونکہ جدیجا نے ان کی بہت پٹائی کی تھی۔ لیکن وقار یونس کو اس بات کا ہمیشہ افسوس رہے گا کہ اپنے طویل کریئر میں وہ بھارت کے خلاف چند ہی ٹیسٹ میچز کھیل سکے۔

وقاریونس اپنے ہم عصر بیٹسمینوں میں برائن لارا، انضمام الحق، سعید انور اور سچن تندولکر کے بڑے معترف ہیں۔

آسٹریلیا کو مقابلے پر آئی ہوئی سب سے بہترین ٹیم قرار دینے والے وقار یونس کا کہنا ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد میڈیا یا کوچنگ کی صورت میں کرکٹ سے وابستہ رہنا چاہیں گے۔

بھارت کے شہرہ آفاق بیٹسمین سچن تندولکر اور وقاریونس نے ایک ہی ٹیسٹ میں اپنے سفر کی ابتدا کی تھی۔ جب سچن سے وقاریونس کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جو خصوصیات کسی بھی فاسٹ بولر میں ہونی چاہئیں وہ وقاریونس میں موجود تھیں ان کے پاس رفتار بھی تھی اور کنٹرول بھی ۔ وہ نوجوان نسل کے ہیرو کے طور پر کھیلے ان کی عظمت ان کے متاثرکن ریکارڈز سے بھی ثابت ہوتی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے وقاریونس کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وسیم اکرم اور وقار یونس نے شاندار طریقے میں عروج کا سفر طے کیا۔ وقاریونس نے وسیم اکرم سے زیادہ تیزی سے ترقی کی۔ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بہت مضبوط بولر تھا۔ ایک اسپیل میں پٹائی کے باوجود ہمت نہیں ہارتا تھا اور دوسرے اسپیل میں زیادہ موثرانداز میں سامنے آتا تھا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد