BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 April, 2004, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: پاکستان کے لئے سخت آزمائش
پاکستانی فاسٹ باؤلرز
لاہور کی وکٹ سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستانی بولرز کو نظم وضبط سے بولنگ کرنا ہوگی
دل شکستہ انضمام الحق کے لئے سخت آزمائش کی ایک اور گھڑی دوسرا ٹیسٹ ہے جو پیر سے قذافی سٹیڈیم میں شروع ہورہا ہے۔

ون ڈے سیریز سے ہاتھ دھونے کے بعد ملتان ٹیسٹ میں اننگز اور 52 رنز کی ہزیمت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ اسے اپنی جس قوت پر ناز تھا وہی اس کی شکست کا سبب بنی۔

اپنی ٹیم کی خراب کارکردگی پر کپتان انضمام الحق کو یہ کہنا پڑا ہے کہ بڑا نام وہی ہے جو پرفارمنس دے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ملتان کی شکست کے بعد وہ اور ان کی ٹیم زبردست دباؤ میں ہے جس سے باہر آنے کے لئے غیرمعمولی پرفارمنس کی ضرورت ہے۔

تنڈلکر اور عرفان پٹھان
تنڈلکر اور عرفان پٹھان نے ملتان ٹیسٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا
لیکن انضمام الحق یہ بھی کہتے ہیں کہ کپتانی آنی جانی چیز ہے وہ سیریز ہارنے کے خوف میں مبتلا نہیں ہیں ۔

دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر ہارون رشید میڈیا میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور تجزیہ نگاروں کے تنقیدی تبصروں سے خوش نہیں ہیں۔

لیکن جہاں تک شائقین کی ناراضگی کا تعلق ہے اسے کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا انہیں توقع تھی کہ جس طرح ون ڈے سیریز میں پاکستان ٹیم نے سخت مقابلہ کیا تھا ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان ٹیم سخت جان حریف کے طور پر سامنے آئے گی لیکن ملتان ٹیسٹ میں اسے جس طرح بھارت نے آؤٹ کلاس کیا اس کے بعد شائقین کی مایوسی میں اضافہ اور میچز سے عدم دلچسپی پیدا ہوگئی ہے ۔

ملتان ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی اس کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ کپتان کے خیال میں وکٹ جو انہیں چاہئے تھی وہ نہ مل سکی ۔جاوید میانداد ہر اہم معاملے پر بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔

انیل کمبلے
انیل کمبلے کو چار سو وکٹیں مکمل کرنے کے لئے صرف دس وکٹوں کی ضرورت ہے
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ ٹیم سلیکشن اور وکٹ کا حتمی فیصلہ کپتان کی ذمہ داری ہے ایسے میں دفترخارجہ میں یہ بازگشت بھی سننے کو ملتی ہے کہ یہ سیریز خیرسگالی کے جذبے کے تحت مل جل کر تو نہیں کھیلی جارہی ہے؟ اس صورتحال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایک ہی شکست نے پاکستان کرکٹ کو کس قدر حواس باختہ کردیا ہے۔

لاہور ٹیسٹ کے لئے کئی روز سے دلہن کی طرح بناؤ سنگھار کرکے تیار کی جانے والی وکٹ پر گھاس نظر آرہی ہے اس پر باؤنس ہونے کا دعوی بھی ماہرین کررہے ہیں۔

لیکن کپتان انضمام الحق سمیت ہر ایک کا یہ ہی کہنا ہے کہ پاکستانی بولرز کو نظم وضبط سے بولنگ کرنی ہوگی ورنہ جس طرح ملتان میں ہوم ایڈوانٹج گنوایا گیا لاہور میں ایسا ہوا تو حیرانگی نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان ٹیم کے وکٹ کیپر معین خان گروئن انجری کے سبب ٹیسٹ سے باہر ہوگئے ہیں اور ایک سال بعد کامران اکمل کی قسمت دوبارہ جاگ اٹھی ہے۔

عمران نذیر عمران فرحت کی جگہ لینے کے لئے تیار ہیں لیکن سلیکٹرز عمران فرحت کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں تاہم یہ بات یاد رکھی جائے کہ حتمی ٹیم منتخب کرنے کا اختیار کپتان کو ہے ۔

عبدالرزاق کی جگہ سپیشلسٹ بیٹسمین عاصم کمال کو کھلائے جانے کی توقع ہے۔ ثقلین مشتاق کی جگہ لینے کے لئے دانش کنیریا اور شعیب ملک میں ٹائی ہے۔

بھارتی ٹیم میں ان فٹ ظہیرخان کی جگہ اشیش نہرا اور بالاجی کی جگہ اجیت اگرکار کی شمولیت کا امکان ہے۔

پاکستانی کیمپ کے برعکس بھارتی کیمپ میں سکون اور اطمینان کی فضا ہے۔ لیکن کپتان راہول ڈراوڈ کا کہنا ہے کہ ملتان ٹیسٹ کی جیت کے بعد کام ختم نہیں ہوا ہے انہیں معلوم ہے کہ پاکستان ٹیم سخت حریف کے طور پر سیریز میں واپس آسکتی ہے۔

ڈراوڈ کو اپنی ٹیم کی تاریخ بھی پتہ ہے کہ غیرملک میں پہلا ٹیسٹ جیت کر وہ اگلا ٹیسٹ میزبان کے نام کردیتی ہے ایسا ویسٹ انڈیز زمبابوے اور آسٹریلیا میں ہوچکا ہے اور وہ یقینا اس سے بچنے کی کوشش کرینگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد