BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 March, 2004, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کچھ باتوں کا مطلب بعد میں۔۔۔

News image
کچھ باتوں کا مطلب وقت گزرنے کے ساتھ ہی سمجھ میں آتا ہے۔

صدر مشرف نے جب ہندوستانی اور پاکستانی کھلاڑیوں سے چائے پر ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ملکوں کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی کہ ہتھیار ہیں (شعیب اختر اور سچن تندولکر) تو ہم نے سمجھا کہ وہ مزاق فرما رہے ہیں۔

لیکن اب پتا یہ چلا ہے کہ ماجرہ کچھ اور ہی ہے۔ تباہ کاری کےمعاملے میں شعیب اختر اور سچن کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ہو بھی کیسے سکتا، شعیب پاکستان
کے جوہری پروگرام کے مرکز خان رسرچ لیباریڑریز کرکٹ کلب کے لئے جو کھیلتے ہیں۔

ہندوستانی کھلاڑی اب تھوڑی شاپنگ کرنے لگے ہیں۔ لاہورکے مشہور لبرٹی پلازہ میں کپڑوں کی شاندار دوکان بریز سے انہوں نے اپنی بیویوں اور نہ معلوم کس کس کے لئے کپڑے خریدے۔ ایک سیلز مین نے بتایا کہ کھلاڑیوں نے رنگوں کا انتخاب کرتے وقت سیل فون پر مسلسل اپنے کنٹرول اور کمان مرکز سے رابطہ رکھا۔

فائنل میں انضمام نے لگاتار پانچویں مرتبہ ٹاس جیتا۔ قسمت کی بات ہے، کم سے کم ٹاس جتینے میں کوئی مہارت کا دعوی نہیں کرسکتا۔ لیکن پریس باکس میں میں نے صحافیوں کو کہتے سنا کہ میچوں میں فکسنگ ہو نہ ہو، ٹاس میں فکسنگ ضرور تھی۔ میں یہ بات نہیں مانتا۔ پاکستان نے ٹاس جیتا لیکن ایک اچھے میزبان کی طرح پہلے ہندوستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ آخر اتنی گرمی میں آپ مہمان ٹیم سے فیلڈنگ تو نہیں کرا سکتے۔

عمران خان نے شوکت خانم میموریل اسپتال کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے کی غرض سے ایک چیرٹی ڈنر کا احتمام کیا اور ہندوستانی کھلاڑیوں کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ مشہور ہندوستانی گلوکر دلیر مہندی نے اپنی آواز سے محفل میں جان ڈالی لیکن سننے والوں میں ہندوستانی ٹیم کے صرف ایک کھلاڑی، مرلی کارتک، شامل تھے۔ سنا ہے کہ باقی کھلاڑیوں نے سکیورٹی کی وجہ سے وہاں جانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ ڈنر کا انتظام کھلے میں کیا گیا تھا۔
لیکن پنجاب کے وزیر اعلی کی دعوت میں پوری ٹیم نے حاضری لگائی۔

بانی پاکستان کی بیٹی اور نواسے جب فائنل دیکھنے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم پہنچے تو نا معلوم کیوں امیتابھ بچن کی ناقابل فراموش فلم دیوار کا ایک سین یاد آگیا۔ جن لوگوں نے یہ فلم نہیں دیکھی ہے، ان کے لئے بتادوں کے یہ کہانی دو بھائیوں کی تھی، ایک( امیتابھ) نے بدی کا راستہ اختیار کیا لیکن چھوٹا بھائی ششی کپور پولیس میں شامل ہوگیا۔ماں کو بڑے بیٹے کی کارستانیوں کا پتہ چلا تو وہ چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہنے لگی۔اصول آڑے آئے اور دونوں میں اختلافات ہوئے، اور جب ششی کپور نے امیتابھ سے کہا کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کر دے، تواسٹیج اس سین کے لئے تیار ہوا جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ امیتابھ: کیوں کر دوں میں خود کہ قانون کے حوالے، میرے پاس دولت ہے شہرت ہے(اس سے کچھ ملتے جلتے الفاظ)۔۔۔ تیرے پاس کیا ہے؟
ششی کپور: میرے پاس ماں ہے!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد