’مہاراج‘ لاہور کی سڑکوں پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے ڈے نائٹ میچ سے رات کو گیارہ بجے فارغ ہوئے سوچا کہ تھوڑا شہردیکھا جائے۔ فوڈ اسٹریٹ کا بڑا نام سنا تھا۔ سنا تھا کہ وہاں رات بھر رونق رہتی ہے، سو جاپہنچے۔ شا ید دو بجنے والے تھے۔ لیکن کرکٹ نے وہاں بھی پیچھا نہیں چھوڑا۔ ہندوستانی ٹیم کے کپتان سورو گنگولی وہاں بیٹھے باربی کیو کےمزے لے رہے تھے۔ پاکستانی کرکٹ شائقین نے انہیں گھیر رکھا تھا، لیکن سورو کے ماتھے پر شکن نہیں تھی۔ وہ ہنس کر لوگوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے، جس نے آٹوگراف مانگا، ’مہاراج‘ (سورو کو گھر پر مہاراج کہتے ہیں) نے منع نہیں کیا، سب کے ساتھ فوٹو کھنچوائے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ تھی کہ ان کے ساتھ صرف ایک حفاظتی اہلکار تھا، اور وہ بھی سادہ پوش۔ کس نے کب سوچا تھا کہ سکیورٹی کے بارے میں فکرمند ہندوستانی کپتان اس قدر آزادی سے لاہور کی سڑکوں پر گھومیں گے۔ چاہے وہ شیر بنگال ہی کیوں نہ ہوں۔ لاہور کا میچ دیکھنے بڑی تعداد میں ہندوستانی شائقین آئے۔ اتفاق سے پانچ ایسے سگے بھائیوں سے ملاقات ہوئی جو تقسیم کے وقت ہندوستان چلے گئے تھے اور اب ستاون برس کے بعد کرکٹ کے بہانے جڑانوالہ میں اپنا آبائی گھر دیکھنے لوٹے ہیں۔ سب سے بڑے بھائی وید پرکاش کھرانہ اب بہّتر برس کے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس وقت کی کیا یادیں ہیں، تو احساس ہوا کہ زخم ابھی بھرے نہیں ہیں۔ نم آنکھوں سے بتایا کہ ان پر کیا گزری اور کس طرح ایک مسلمان پڑوسی نے اپنے گھر میں پناہ دے کر ان کے کنبے کی جان بچائی اور پھر ٹرک سے لائلپور پہنچایا۔ تقسیم کے وقت سرحد کے دونوں طرف بہت زیادتیاں ہوئیں لیکن ایسی بھی بہت سی کہانیاں ہیں جنہیں سن کر لگتا ہے کہ جنون کتنا بھی بڑھ جائے، انسانیت پھر بھی کہیں نہ کہیں زندہ رہتی ہے۔ لیکن وید پرکاش کا کہنا ہے کہ ایسی کہانیوں پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اور بھی بہت ہندوستانی ملے۔ سب کی زبان پر ایک ہی شکایت تھی۔ صرف تین دن کا ویزا کیوں؟ ہم کچھ دن اور یہاں رکنا چاہتے ہیں۔ لاہور دیکھنا چاہتے ہیں۔ میچوں کی وجہ سے لاہور میں ہوٹلوں کےکرائے آسمان کو چھو رہے ہیں، ہوٹل مالکان تین سے چار گنا تک پیسے وصول کر رہے ہیں اور اگر آپ کسی سے کمرے کے بارے میں معلوم کریں، تو کرایا صرف ڈالر میں بتاتے ہیں۔ شادمان میں جس ہوٹل میں میں ٹھہرا تھا، اس کے باہر ایک بڑا نالا ہے جہاں سے ناقابل برداشت بدبو آتی ہے۔ میرا تعلق مغربی اتر پردیش کے ایک قصبے سے ہے، گندگی اور بدبو میرے لئے کوئی نئی بات نہیں، لیکن ڈالر میں کرایہ دیکر بھی ایسی بدبو۔۔۔ میں ایک رات سے زیادہ نہیں ٹک سکا۔ اور آخر میں ایک عام آدمی کا ذکر۔ وسیم اکرم کہتے ہیں کہ میں تو ایک عام سا لڑکا تھا، میں نے کرٹ کھیلنے کا خواب دیکھا، اورپورا کیا۔ لیکن وسیم بھائی آپ نے کرکٹ کو ایسا بہت کچھ دیا جو عام آدمی کے بس میں نہیں تھا۔ آپ نے ریورس سوئنگ کو نئی بلندیوں تک پہنچایا، ایک روزہ میچوں میں پانچ سو سے زیادہ وکٹ لئے، لمبے لمبے چھکے لگائے اور کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ کرکٹ پر آپ کو اتنا عبور تھا کہ میچ شروع ہونے سے پہلے ہی آپ کو نتیجہ معلوم ہوتا تھا۔ایک کمیٹی نے تو اس بات کی بھی سفارش کی تھی کہ آپکو کرکٹ سے دور رکھا جائے۔ آپ کچھ بھی تھے لیکن عام کبھی نہیں تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||