BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 March, 2004, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیروں پر کرم، اپنوں پر ستم

پاک انڈیا کرکٹ سیریز
انڈیا کے تماشائیوں کو نسبتاً بہتر سہولیات فراہم کی گئی ہیں
پاکستان اور بھارت کے درمیان پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کے چار میچ کھیلے جاچکے ہیں اور تماشائیوں کی بھرپور توجہ اپنی جانب مبذول کرنے والا صرف ایک میچ باقی رہ گیا ہے۔ لیکن شائقین کوبہترین سہولتیں فراہم کرنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دعوے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں البتہ اس نے بدانتظامی کا اعتراف کرتے ہوئے معذرت ضرور کی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچوں کے دوران غیرمعمولی سکیورٹی کا براہ راست اثر عام شائقین پر پڑا ہے جنہیں نہ صرف ٹکٹیں ہونے کے باوجود تپتی دھوپ میں طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کی کوفت برداشت کرنی پڑ رہی ہے بلکہ اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء نہ لانے کی وجہ سے بھی وہ مشکلات سے دوچار ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور چیف ایگزیکٹیو رمیض راجہ نے اس بارے میں دعوے کئے تھے کہ شائقین کو میچوں میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا لیکن لاہور میں ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ لاہور کے چوتھے ون ڈے میں شائقین کو پینے کا پانی نہیں مل سکا اور صفائی ستھرائی کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔

شہریار خان نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ وزارت داخلہ نے بھی سیریز کے دوران سہولتوں کے فقدان کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب پنڈی کے میچ کے بعد وزارت داخلہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو سہولتوں کے غیرمعیاری ہونے اور عام شائقین کی پریشانیوں پر کرکٹ بورڈ سے اپنی ’ناراضگی‘ ظاہر کی تھی تو اس کے بعد پشاور اور پھر لاہور میں اس سلسلے میں اقدامات کیوں نہیں کئے گئے؟

اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارت سے آئے ہوئے شائقین کو بہترین مہمان نوازی مل رہی ہے جس کا اظہار سرحد پار سے آنے والوں نے برملا کیا ہے۔ یہ مناظر بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ پاکستانیوں نے قطار میں پیچھے کھڑے ہوئے بھارتی مہمانوں کو پہلے گیٹ سے گزار کر اندر جانے دیا لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستانی اپنے ہی دیس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بدانتظامی کو قابو نہ کرنے کے سبب مشکلات سے دوچار نظر آتے ہیں۔

یہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو رمیض راجہ کی یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ اسٹیڈیم میں ہونے والی گڑبڑ عام انکلوژر سے شروع ہوتی ہے اسی لئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی جنرل انکلوژر میں نشستیں کم کرکے انہیں بڑی قیمتوں والی ٹکٹوں میں تبدیل کردیا تھا اس طرح اس نے عام تماشائیوں کے داخلے کے راستے پہلے ہی کم کردیئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد