بولرز بے بس کیوں ہوئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا طوفانی بولنگ اٹیک بھارت کی چار قیمتی وکٹیں صرف 94 رنز پر اپنے قابو میں کرنے کے باوجود میچ کو اپنے حق میں کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا اور راہول ڈریوڈ نے یوراج سنگھ اور محمد کیف کے ساتھ ملکر بھارت کو مشکل صورتحال سے نکال کر 5 وکٹوں کی شاندار جیت سے ہمکنار کردیا جس کے نتیجے میں پانچ میچوں کی سیریز دو دو سے برابر ہوگئی جس کا فیصلہ اب بدھ کو پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میں ہوگا۔ کپتان انضمام الحق کے لئے یہ صورتحال اس لئے مایوس کن تھی کیونکہ پاکستان ٹیم کے بنائے گئے 293 رنز کا اسکور معمولی نہیں تھا اور پاکستانی بولرز سچن ٹنڈولکر وریندر سہواگ وی وی ایس لکشمن اور سورو گنگولی کی شکل میں بھارت کی بڑی توپیں خاموش کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد یہ امید ہوچلی تھی کہ وہ باقی ماندہ وکٹیں بھی حاصل کرکے سیریز کو اسی میچ میں اپنے نام کرلیں گے لیکن ان کا روپ یکایک بدلا اور وہ غیرموثر ہوکر رہ گئے جس کا راہول ڈریوڈ ۔ لکشمن اور محمد کیف نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ راہول ڈریوڈ کا ریکارڈ ملک سے باہر ہمیشہ سے شاندار رہا ہے اور وہ موجودہ دورے میں بھی اس یقین کو مزید پختہ کررہے ہیں ۔ کراچی میں وہ صرف ایک رن کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے تھے اس مرتبہ ان کی ناقابل شکست 76 رنز کی اننگز نے سوروگنگولی کے مرجھائے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی ۔ راہول ڈریوڈ نے یوراج سنگھ کے ساتھ 68 رنز کی شراکت سے بھارتی ٹیم کی سانسیں بحال کیں اور پھر محمد کیف کے ساتھ 132 رنز کی میچ وننگ شراکت سے انضمام الحق کی مایوسی میں اضافہ کردیا ۔یوراج سنگھ نے 36 رنز بنائے۔ محمد کیف 71 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے ۔بھارت کی اننگز کے پہلے 13 اوورز اگر پاکستانی بولرز کے حاوی ہونے کی داستان بیان کررہے تھے تو اگلے 32 اوورز میں توازن بھارت کے حق میں ہوگیا جس کا سبب پاکستانی بولنگ کے روپ میں یکایک تبدیلی آنا تھا ۔ شعیب اختر کریمپ پڑنے کے نتیجے میں پورے دس اوورز نہ کرسکے پہلے اسپیل کے بعد وہ اپنا اثر کھوچکے تھے ۔شبیراحمد بھی مہنگے ثابت ہوئے کچھ یہی صورتحال محمد سمیع کے ساتھ رہی۔ پاکستان ٹیم کے کپتان اور کوچ کے ایکسٹرا رنز پر قابو میں رکھنے کے تمام تر دعوے ابھی تک غلط ثابت ہوئے ہیں پچھلے تین میچوں کی طرح اس میچ میں بھی 19 وائیڈ اور 9 نوبال پاکستانی بولرز کی شاہ خرچی کو ظاہر کررہی تھیں۔ اس سے قبل پاکستان کی اننگز انضمام الحق کی شاندار سنچری سے مستحکم ہوسکی جنہوں نے سیریز میں دوسری مرتبہ پاکستان بیٹنگ کا بوجھ اپنے کندھوں پر محسوس کرتے ہوئے تین ہندسوں کی شاندار اننگز کھیلی اور یونس خان کے ساتھ 105 اور عبدالرزاق کے ساتھ 70 رنز کی شراکت کے ذریعے وہ حالات بہتر کرنے میں کامیاب ہوسکے ۔ان کے آؤٹ ہونے کے بعد چار وکٹیں 28 رنز کے اسکور پر گرنے سے پاکستان کے لئے تین سو سے زائد رنز تک پہنچنا ممکن نہ ہوسکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||