 |  لِٹل ماسٹر اور جنرل مشرف |
صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کو بدھ کے روز ایوان صدر میں چائے پر مدعو کیا۔ اس موقع پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام کے علاوہ بھارتی ہائی کمشنر شیوشنکر مینن بھی موجود تھے۔ دونوں ٹیمیں تقریبا ایک گھنٹے تک صدر مشرف کے ساتھ رہیں۔ اس دوران صدر مشرف نے اس توقع کا اظہار کیا کہ کرکٹ کے ذریعے دونوں ملکوں میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔  |  کپتان گانگولی کے ساتھ | صدر مشرف کرکٹ کے زبردست شیدائی ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان پنڈی میں کھیلا گیا میچ بھی کچھ دیر دیکھا۔ اس سیریز میں صدر مشرف کی دلچسپی کا اندازہ بھارتی کپتان سورو گنگولی کے ان الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں کرکٹ کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے۔ انہیں دونوں ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے بارے میں مکمل معلومات تھیں۔ جن کا انہوں نے دلچسپ پیرائے میں ذکر بھی کیا اور انہیں آسٹریلیا کے دورے میں عمدہ پرفارمنس پر داد دی۔تقریب میں صدر نے ماسٹر بیٹسمین سچن تندولکر کو تیرہ ہزار رنز کی تکمیل پر بھی مبارک باد دی ۔  |  ’فوٹو آپ‘ | انہوں نے بالاجی اور محمد کیف سے مخاطب ہوتے ہوئے پنڈی میں ان کی جیت کے لئے سرتوڑ کوشش اور کراچی میں خوبصورت کیچ کو بھی سراہا۔بھارتی کرکٹ ٹیم کے منیجر رتناکر شیٹھی نے صدر مشرف کو بھارتی کرکٹرز کے آٹوگراف سے سجا بیٹ پیش کیا اور بھارتی عوام کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آنے سے قبل وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے بھی ملی تھی جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ برصغیر کے حکمرانوں میں بھی کرکٹ کس قدر مقبول ہے ۔ |