BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 March, 2004, 21:14 GMT 02:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پولیس کی مہمان نوازی میں مزہ آیا‘

پرییانکا گاندھی
پرییانکا گاندھی نے بھی کراچی ون ڈے دیکھا
کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو چوبیس گھنٹے کے تکلیف دہ سفر کے بعد خواہش صرف سونے کی تھی۔ لیکن آپ جو چاہتے ہیں وہ ہوتا کب ہے؟

امیگریشن پر معلوم ہوا کہ لندن کے ہائی کمیشن نے ویزاجاری کرنے میں تھوڑی گڑبڑ کردی ہے۔ میڈیا کا ویزا تو لگایا لیکن پولیس رجسٹریشن سے مستثنٰی کرنے والی مہر لگانا بھول گئے۔

کرکٹ سیریز کا شیڈول کچھ اتنا ٹائٹ ہے کہ ہر شہر میں پولیس دفتر میں آمد اور روانگی لکھوانا ممکن نہیں۔ امیگریشن حکام سے گزارش کی تو وہ بس اتنا پسیجے کہ آپ کراچی میں آمد لکھوادیں اور واپسی میں یہیں سے روانگی بھی کرالیں۔

 ’پاکستان اتنا خراب نہیں جتنا کہ ہم سمجھ رہے تھے‘
بھارتی صحافی
پولیس دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ دفتر بند ہوچکا ہے۔ پیر کے روز آئیے گا۔ لیکن پھر قسمت نے تھوڑا زور مارا اور نامعلوم کیوں وہاں موجود انسپکٹر سمجھا کہ ہم ایس پی صاحب کے مہمان ہیں۔ پھر دفتر بند ہونے کے باوجود سیکنڈوں میں ہمارا کام ہوگیا۔ وہ ’صاحب‘ کے کسی مہمان کا انتظار کر رہا تھا، مہمان بے چارے جب پہنچے ہوں گے تو وہ شاید یہ سمجھ کر کہ صاحب کے مہمان کا کام ہوگیا ہے، گھر جا چکا ہوگا۔ پولیس کی مہمان نوازی میں مزہ آیا چاہے وہ غلط فہمی میں ہی ہوئی۔

ویسے بھی میرے خیال میں اتنی باریکی میں نہیں جانا چاہیے۔

میچ کے لئے کراچی میں جو تیاریاں تھیں وہ دیکھتے ہی بنتی تھیں۔ جگہ جگہ حریف ٹیم کے استقبال کے لئے بینر لگے ہوئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں رینجرز سڑکوں اور سٹیڈیم کے آس پاس کی عمارتوں پر تعینات تھے۔ مقامی لوگوں کا موڈ کچھ بدلا بدلا سا لگا۔ کرکٹ کا بہت انتظار تھا، پاکستانی ٹیم کی کامیابی کی آرزو بھی تھی، لیکن اس سب پر یہ امید غالب نظر آئی کے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی میں یہ میچ شاید ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

میچ کے دوران جو ماحول تھا، ایسا کم سے کم میں نے تو زمانے سے نہیں دیکھا۔ تیس ہزار سے زیادہ پاکستانی ہندوستانی کھلاڑیوں کے ہر کارنامے کی داد دے رہے تھے اور جب راہول ڈراوڈ اپنی شاندار اننگز کے بعدپویلین لوٹے تو بہت کم لوگ ہوں گے جنہوں نے کھڑے ہوکر تالیاں نہ بجائی ہوں۔

دو اور باتیں تھیں، جو نہیں ہوئیں۔ شائقین نے نعرہ تکبیر کانعرہ بلند نہیں کیا۔ حالانکہ ایک مرتبہ جاوید میانداد اسٹینڈ میں کوشش ضرور ہوئی لیکن کسی نے ساتھ نہیں دیا۔

اچھا ہی ہے کہ مذہب کو کھیل سے الگ رکھا جائے۔

دوسری لیکن اتنی ہی اہم بات میچ کے اختتام پر ہوئی جب پاکستان ہارا لیکن میدان پر خاموشی نہیں چھائی۔ لوگوں نے ہندوستانی ٹیم کے کھیل کو سراہا اور ہندوستانی کھلاڑیوں نے ہاتھ ہلاکر ان کا شکریہ اداکیا۔

میچ دیکھنے پرییانکا گاندھی بھی آئیں لیکن ان کے گرد سکیورٹی کا گھیرا بہت سخت تھا۔ پہلے پرینکا، ان کے بھائی راہول اور شوہر رابرٹ عام لوگوں کے ساتھ سٹینڈز میں بیٹھے، پھر پریس گیلری میں اور اس کے بعد بی سی سی آئی کے چیئرمین کے ایرکنڈیشنڈ کمرے میں۔

میں نے پاکستان کے وزیر اطلاعات شیح رشید سے پوچھا کہ ان کی اتنی پریڈ کیا یہ دکھانے کے لئے کرائی جارہی ہے کہ کراچی میں سکیورٹی کی صورتحال اچھی ہے اور وی آئی پی بھی عام لوگوں کے ساتھ میچ دیکھ سکتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ شیخ صاحب نے اس سے انکار کیا لیکن لگتا نہیں کہ پریانکا نے خود یہ کہا ہوگا کہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر ہر زاویے سے میچ دیکھنا چاہتی ہیں۔

خیر انہوں نے کئی جگہ سے میچ دیکھا، سب نے انہیں دیکھا، اور راہول اور رابرٹ حالانکہ ہر لمحہ ان کے ساتھ تھے لیکن انہیں کسی نے نہیں دیکھا یا شاید انہیں دیکھنے میں کسی کی دلچسپی نہیں تھی۔

ہندوستان سے آنے والے صحافیوں کے بھی مزے رہے۔ میرے کچھ دوست بھی سیریز کور کرنے آئے ہوئے ہیں، دوپہر کے کھانے میں قورمہ، بریانی، سیخ کباب دیکھے تو کہنے لگے کے اس کھانے کے سامنے تو ہندوستان کی بیٹنگ بھی پھیکی پڑ گئی۔

زیادہ تر ہندوستانی صحافی پہلی مرتبہ پاکستان آئے ہیں، اور یہاں آکر انہیں پتہ چلا کہ ’پاکستان اتنا خراب نہیں جتنا کہ ہم سمجھ رہے تھے‘۔

اس میچ میں صرف شعیب اختر کا ہّوا ہی ختم نہیں ہوا!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد