فیصلہ کن گھڑی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شائقین کے بھرپور جوش و خروش میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں کل قذافی اسٹیڈیم لاہور میں فیصلہ کن میچ کھیل رہی ہیں۔ یہ میچ ڈے اینڈ نائٹ ہے۔ بھارتی کپتان سورو گنگولی سیریز برابر کرنے کے بعد خود کو مطمئن محسوس کر رہے ہیں تو دو ایک کی برتری کھونے پر دباؤ یقینی طور پر انضمام الحق کی طرف منتقل ہوچکا ہے جنہوں نے اپنے بولرز کی حد درجہ مایوس کن کارکردگی کے نتیجے میں سیریز اپنے نام کرنے کا سنہری موقع گنوادیا ۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ اب تک دونوں ٹیموں کے درمیان پاکستان میں پانچ ون ڈے سیریز کھیلی جاچکی ہیں جو تمام کی تمام پاکستان نے جیتی ہیں۔ پاکستان ٹیم کے کوچ جاوید میانداد کو توقع ہے کہ فیصلہ کن میچ میں ان کے کھلاڑی زیادہ ذمہ داری اور مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اتریں گے اور ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرینگے جو اس سے پہلے شکست کا سبب بنی ہیں۔
جاوید میانداد کو اسوقت عمران خان کے اس تبصرے پر جواب دینے میں اپنا زیادہ وقت صرف کرنا پڑ رہا ہے جس میں انہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے بولنگ کوچ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جاوید میانداد نے کسی بحث میں پڑنے کی بجائے عمران خان کو دعوت دی ہے کہ وہ جب بھی چاہیں پاکستانی بولرز کی خامیوں کو دور کرنے کے سلسلے میں تعاون کریں جس پر انہیں بہت خوشی ہوگی۔ جاوید میانداد یقیناً بھارتی ٹیم سے یہ بھی توقع کر رہے ہیں کہ جیسا کہ وہ ہمیشہ سے فائنل میچ میں آ کر ہارجاتی ہے یہ پانچویں ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی ہوکر رہے گا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کے بعد سے آسٹریلیا سے چار فائنل کھیل چکی ہے اور ہرمرتبہ اسے آسٹریلیا نے قابو کرلیا۔ اگر جاوید میانداد کی بھارتی ٹیم سے یہ توقعات ہیں کہ وہ فیصلہ کن میچ میں آکر حوصلہ ہارجاتی ہے تو دوسری جانب بھارتی نائب کپتان راہول ڈریوڈ بھی پاکستان ٹیم سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ پچھلے میچوں کی طرح ایکسٹرا رنز کی سوغات اسے اس میچ میں بھی ملے گی۔ وہ بھارت کے فائنلز ہارنے کی عادت کے بارے میں پریشان نہیں ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ فائنلز بھارت نے دنیا کی سب سے بہترین ٹیم سے کھیلے ہیں جو کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ڈریوڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کمزوری پر نگاہ جمائے بیٹھنے کے بجائے وہ اپنی خامیوں اور خوبیوں کو ذہن میں رکھ کر میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ بولنگ سے انہیں فکر لاحق ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے نائب کپتان یوسف یوحنا کو امید ہے کہ ان کے بولرز ایکسٹرا رنز کی بھرمار سے گریز کرینگے اور ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔ جاوید میانداد کا بھی یہی کہنا ہے کہ شعیب اختر اور محمد سمیع وہ بولرز نہیں جنہیں ایک خراب کارکردگی پر تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ بھارت نے پچھلے میچ کے بارہ رکنی اسکواڈ کو برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایک تبدیلی کا امکان ہے۔ شاہد آفریدی جو پنڈی میں 80 رنز کی شاندار اننگز کے بعد پشاور میں 6 اور لاہور میں 3 رنز ہی بنا پائے ٹیم سے ڈراپ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں اور ان کی جگہ توفیق عمر کی شمولیت متوقع ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کی وکٹ بیٹسمینوں کے لئے سازگار ہے ۔ پانچویں میچ کے موقع پر لاہور میں زبردست جوش وخروش ہے۔ سرحد پار سے ممتاز شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ قائداعظم کے نواسے نسلی واڈیا بھی لاہور پہنچ رہے ہیں۔ میچ کی ٹکٹیں پہلے ہی فروخت ہوچکی ہیں اور جعلی ٹکٹوں کا کاروبار بھی عروج پر ہے جس پر کرکٹ بورڈ اور مقامی انتظامیہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||