BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 March, 2004, 11:41 GMT 16:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اینٹی کرپشن یونٹ سے ملاقات

News image
راشد لطیف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے بارے میں اپنے تبصرے کی وضاحت کے لئے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کے اہلکاروں سے ملاقات کی ہے۔

یہ ملاقات پیر کو کراچی میں ہوئی ۔ اینٹی کرپشن یونٹ کے اہلکار ایلن پیکاک اور مارٹن ہاکنز راشد لطیف سے ملنے کراچی پہنچے تھے۔ راشد لطیف نے ٹی وی پر ایک تبصرے کے دوران اپنے شکو ک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

راشد لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے اہلکاروں کو انہوں نے میچ کے ان نکات کے بارے میں بتایا جن سے شک و شبہ کو تقویت ملتی ہے۔ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ وہ پانچویں ون ڈے سے قبل دوبارہ یونٹ سے ملاقات کررہے ہیں ۔

راشد لطیف اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے دورے میں بھی اینٹی کرپشن یونٹ سے مل چکے ہیں اور انہوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ میچ فکسنگ اب فینسی فکسنگ کی شکل میں ہورہی ہے ۔

راشد لطیف نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ’انڈس ٹی وی‘ پر، جس کے ساتھ انہوں نے سیریز میں ماہرانہ رائے دینے کا معاہدہ کیا ہے، تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوتھا میچ ان کے خیال میں مشکوک تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور میں کھیلے گئے چوتھے ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے نتیجے پر انگلیاں اٹھانے والوں میں سب سے پہلی صدا جس شخص کی بلند ہوئی وہ راشد لطیف تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے راشد لطیف کے ان ریمارکس کو شرمناک اور غیرمحبِ وطن انداز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

راشد لطیف سے جب پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ممکنہ کارروائی کی بابت استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے چھ کرکٹ بورڈ جھیل چکے ہیں اس لئے اس بورڈ کو بھی جھیل لیں گے۔

راشد لطیف سے جب پوچھا گیا کہ کرکٹ بورڈ کے خیال میں آپ کے ریمارکس حب الوطنی پر مبنی نہیں ہیں تو سابق کپتان نے سوال کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ حب الوطنی ہے؟

اس سلسلے میں انہوں نے انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورے کے موقع پر جب وہ کپتان تھے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے ملاقات کی تھی اور اسے خط بھی لکھا تھا جس پر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی خفگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی لاہور کے چوتھے ون ڈے میں شکست پر انضمام الحق کو پریس کانفرنس میں میچ فکسنگ سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اس قدر خفا ہوئے کہ انہوں نے ایک صحافی کو ’شٹ اپ‘ کہہ دیا جس پر صحافیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے باضابطہ احتجاج کیا اور نتیجتاً انضمام الحق کو اس پر معذرت کرنی پڑی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد