اینٹی کرپشن یونٹ سے ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیریز کے بارے میں اپنے تبصرے کی وضاحت کے لئے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کے اہلکاروں سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات پیر کو کراچی میں ہوئی ۔ اینٹی کرپشن یونٹ کے اہلکار ایلن پیکاک اور مارٹن ہاکنز راشد لطیف سے ملنے کراچی پہنچے تھے۔ راشد لطیف نے ٹی وی پر ایک تبصرے کے دوران اپنے شکو ک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔ راشد لطیف نے بی بی سی کو بتایا کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے اہلکاروں کو انہوں نے میچ کے ان نکات کے بارے میں بتایا جن سے شک و شبہ کو تقویت ملتی ہے۔ راشد لطیف کا کہنا ہے کہ وہ پانچویں ون ڈے سے قبل دوبارہ یونٹ سے ملاقات کررہے ہیں ۔ راشد لطیف اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے انگلینڈ کے دورے میں بھی اینٹی کرپشن یونٹ سے مل چکے ہیں اور انہوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ میچ فکسنگ اب فینسی فکسنگ کی شکل میں ہورہی ہے ۔ راشد لطیف نے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ’انڈس ٹی وی‘ پر، جس کے ساتھ انہوں نے سیریز میں ماہرانہ رائے دینے کا معاہدہ کیا ہے، تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوتھا میچ ان کے خیال میں مشکوک تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان لاہور میں کھیلے گئے چوتھے ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے نتیجے پر انگلیاں اٹھانے والوں میں سب سے پہلی صدا جس شخص کی بلند ہوئی وہ راشد لطیف تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے راشد لطیف کے ان ریمارکس کو شرمناک اور غیرمحبِ وطن انداز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ راشد لطیف سے جب پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ممکنہ کارروائی کی بابت استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے چھ کرکٹ بورڈ جھیل چکے ہیں اس لئے اس بورڈ کو بھی جھیل لیں گے۔ راشد لطیف سے جب پوچھا گیا کہ کرکٹ بورڈ کے خیال میں آپ کے ریمارکس حب الوطنی پر مبنی نہیں ہیں تو سابق کپتان نے سوال کیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے کیا وہ حب الوطنی ہے؟ اس سلسلے میں انہوں نے انگلینڈ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورے کے موقع پر جب وہ کپتان تھے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے ملاقات کی تھی اور اسے خط بھی لکھا تھا جس پر انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کی خفگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی لاہور کے چوتھے ون ڈے میں شکست پر انضمام الحق کو پریس کانفرنس میں میچ فکسنگ سے متعلق سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اس قدر خفا ہوئے کہ انہوں نے ایک صحافی کو ’شٹ اپ‘ کہہ دیا جس پر صحافیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے باضابطہ احتجاج کیا اور نتیجتاً انضمام الحق کو اس پر معذرت کرنی پڑی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||