| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان میں فیصلہ کن مقابلہ
فرانس میں ہونے والا عالمی کپ کھیلنے بھارت اور پاکستان میں سے کون جائے گا اس کا فیصلہ آج لاہور میں جاری عالمی کپ پولو کے زون ڈی کوالیفائنگ مقابلوں کے آخری دن اور آخری میچ کے بعد ہو گا۔ یہ مقابلہ پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان ہو رہا ہے۔ آسٹریلیا نے پہلے ہی عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔گزشتہ روز یعنی ہفتے کو آسٹریلیا نے ایک سخت اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو پانچ کے مقابلے آٹھ گول سے شکست دی۔ میچ کے آغاز میں پاکستان نے بہتر کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین ایک سے برتری حاصل کرلی مگر جلد ہی آسٹریلیا نے اس برتری کو ختم کر دیا۔چوتھے چکر میں ایک وقت سکور پانچ پانچ برابر تھا مگر اس چکر کے خاتمے سے چند سیکنڈ پہلے آسٹریلیا نے چھٹا گول کرکے ایک گول کی برتری حاصل کر لی۔ پانچویں اور آخری چکر میں پاکستانی ٹیم نے گول اتارنے کی کوشش کی جس سے اسکا دفاع کمزور ہوا اور یوں آسٹریلیا نے مزید دو گول کرکے اپنی جیت کو یقینی بنا لیا۔ آسٹریلوی ٹیم کے کپتان ایڈم ٹولہرسٹ نے کہا کا ہماری ٹیم نے آج بہت منظم کھیل کھیلا اور یہی نظم ہماری جیت کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا کیونکہ بھارت کے ساتھ میچ میں ہم چھ دو سے ہار رہے تھے اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کے ساتھ میچ آج پاکستان کے ساتھ ہونے والے میچ سے کچھ زیادہ مشکل تھا۔یاد رہے کہ بھارت اور آسٹریلیا کے میچ کا فیصلہ گولڈن گول پر ہوا تھا۔ مبصرین کے بقول اب تک اس ٹورنامنٹ میں بھارت اور پاکستان کی کارکردگي کا موازنہ کیا جائے تو بھارت کی پولو ٹیم پاکستانی ٹیم سے بہتر نظر آتی ہے جبکہ پاکستان کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ حاصل ہے تاہم میدان میں کون بہتر ثابت ہوتا ہے اس کا فیصلہ اتوار کو ہو گا۔ آج ہونے والے دوسرے میچ میں سنگاہ پور نے ایران کو ڈھائی کے مقابلے دس گول سے شکست دی۔ اور اسطرح ایران جو کہ اپنے سارے میچ کھیل چکا ہے ناصرف کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا بلکہ اس نے اس نے تمام میچوں میں بڑے بڑے مارجن سے شکست کھائی۔ اس ٹورنامنٹ میں آسٹریلیا بھارت اور پاکستان تو کم و بیش ایک جیسی ٹیمیں تھیں مگر ایران اور سنگا پور بہت کمزور ٹیمیں ثاتبت ہوئیں اور ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کے معیار میں اتنے فرق کی بابت جب پاکستان پولو فیڈریشن کے صدر لیفٹیننٹ جنرل عارف حسن سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ دراصل اس ٹورنامنٹ کے لیے نیوزی لینڈ اور جنوبی کوریا کی ٹیموں نے کوالیفائی کیا تھا مگر ان ٹیموں نے سیکیورٹی کے پیش نظر آنے سے انکار کر دیا اس لیے ہم نے فیڈریشن انٹرنیشنل پولو کی رضامندی کے ساتھ ایران اور سنگا پور کو آنے کی دعوت دی۔ پاکستان پولو فیڈریشن کے صدر نے یہ بھی بتایا کہ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے ہمیں بہت تجربہ حاصل ہوا ہے اور اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سنہ 2007 میں ہونے والےپولو کے عالمی کپ کے لیے بولی لگائیں گے اور انہیں امید ہے کہ اگلا عالمی کپ پولو پاکستان میں ہو گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||