BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 December, 2003, 17:44 GMT 22:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان اور آسٹریلیاجیت گئے

پولو
صدر پرویز مشرف ہفتے کو ہونے والی افتتاحی تقریب کے موقع پر مہمان خصوصی تھے

لاہور کے پولو کلب میں عالمی پولو کپ کے زون ڈی کوالیفائینگ مقابلوں کے پہلے روز ہونے والے دونوں میچ نتائج کے لحاظ سے با لکل مختلف رہے۔

پہلا میچ جو کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تھا یک طرفہ رہا اور پاکستان بہت آسانی سے یہ میچ ڈیڑھ کے مقابلے بیس گولوں سے جیت گیا۔

دوسرا میچ جو کہ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان ہوا بہت دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ تھا جو شائقین پولو کو کافی عرصے تک یاد رہے گا۔

اس میچ کا فیصلہ اضافی چکر میں گولڈن گول پر ہوا اور آسٹریلیا نے آٹھ کے مقابلے نو گول سے اسے جیت لیا۔

اس ٹورنامنٹ کے تمام میچ پانچ پانچ چکروں پر مشتمل ہیں ہر چکر کا دورانیہ سات سات منٹ ہے۔اس ٹورنامنٹ میں کسی ٹیم کا زیادہ سے زیادہ ہینڈی کیپ چودہ گول ہو سکتا ہے۔

پاکستان نے جو ٹیم اتاری اس کا مجموعی ہینڈی کیپ تیرا تھا اور ایران کی ٹیم کا مجموعی ہینڈی کیپ بارہ گول تھا۔

اس میچ کے دوران کمنٹری کرنے والے کو بار بار پاکستان کی جانب سے گول ہونے کی خبر دینی پڑتی ۔

پاکستان نے کھیل کے پانچوں چکر میں چار چار گول کیے جبکہ ایران کی جانب سے واحد گول رضا بہبودی نے پانچویں چکر میں کیا۔ایران کو آدھا گول ان کی ٹیم کا ایک گول ہینڈی کیپ کم ہونے کی بنا پر ملا۔

پاکستان کی جانب سے حسام علی حیدر نے زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا اور آٹھ گول کیے۔

قبلاء عالم اور سمیع اللہ نے پانچ پانچ اور مراد اسماعیل نے دو گول کیے۔ پاکستان ٹیم کے کوچ پوجر ال آفندی نے میچ کے بعد بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے خوش تو ہیں لیکن وہ اسے کوئی بڑا کارنامہ نہیں سمجھتے کیونکہ ایران کی ٹیم پاکستان کے مقابلے خاصے کمزور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی نظر آسٹریلیا اور بھارت کے خلاف ہونے والے بہت مشکل اور اہم میچوں پر ہے۔

آج ہونے والا دوسرا میچ آسٹریلیا اور بھارت کے درمیان ہوا دونوں ٹیموں کا ہینڈی کیپ برابر تھا جو کہ چودہ گول تھا۔

اگرچہ اس میچ کا نتیجہ آسٹریلیا کے حق میں رہا تاہم بھارت نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔پہلے چکر میں بھارت اور آسٹریلیا دو دو گول سے برابر تھے تاہم دوسرے چکر میں بھارتی پولو کے کھلاڑی چھائے رہے اور پانچ گول کا ہینڈی کیپ رکھنے والے بھارتی ٹیم کے کپتان سمیر سہاگ نے یکے بعد دیگرے تین گول سکور کیے۔

ایک موقع پر بھارت کی برتری دو کے مقابلے پر چھ گول تھی ۔ اس موقع پر آسٹریلوی کھلاڑیوں نے بڑا عمدہ کھیل دکھایا کیا اور کھیل میں اپنی مہارت کا زبردست مظاہرہ کیااور اوپر نیچے چار گول کیے اور یوں تیسرے چکر میں سکور چھ چھ گول سے برابر ہو گیا۔

میچ کے دوران بھارتی ٹیم کے کپتان اور آسٹریلوی کھلاڑی جوک میکوئے آپس میں ٹکرا کر اپنے گھوڑوں سے گر گئے جس سے سٹیڈیم میں موجود تماشائی دم بخود رہ گئے تاہم خوش قسمتی سے دونوں کھلاڑی کسی قسم کی چوٹ سے محفوظ رہے۔

ایک بار پھر میچ میں دونوں ٹیموں کا سکور آٹھ آٹھ گول برابر تھا۔میچ کے مقررہ پانچ چکروں میں فیصلہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے میچ چھٹے چکر میں چلا گيا جس میں وہی فاتح جو پہلے گول کر لے یعنی فیصلہ گولڈن گول پراور آسٹریلیا کے کھلاڑی روبرٹ بیلآرڈ نے یہ گولڈن گول کر کے اپنے ٹیم کو اس اہم میچ میں فتح دلا دی۔

آج کے دن کے مہمان خصوصی مہاراجہ آف جودھ پور گت سنگھ تھے جو کہ انڈین پولو فیڈریشن صدر بھی رہ چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد