روس پر پیرا المپکس میں حصہ لینے پر پابندی برقرار

ڈوپنگ کی تحقیقات کے بعد روس پر پابندیوں کے مطالبات سامنے آئے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈوپنگ کی تحقیقات کے بعد روس پر پابندیوں کے مطالبات سامنے آئے تھے

روس ریو 2016 پیرا المپکس میں حصہ لینے پر پابندی کے خلاف اپیل ہار گیا۔

کھیلوں کی بین اقوامی عدالت نے پیرا المپکس کی کمیٹی آئی پی سی کی جانب سے روسی اتھلیٹس پر لگائی جانے والی پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ آئی پی سی نے یہ فیصلہ ڈوپنگ ایجنسی کی اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ روسی ایتھلیٹ ملک کے سرکاری حکام کی مدد سے ممنوعہ ادویات استعمال کرتے رہے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئی پی سی کا فیصلہ درست تھا اور اپیل میں روس کے جانب سے کوئی ایسے شواہد نہیں پیش کیے گئے جنھیں دیکھ کر پابندی کے فیصلے کو غلط قرار دیا جاسکے۔

آئی پی سی کے سربراہ نے ریو المپکس سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران روس پر پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’روس میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کو روکنے کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، لہٰذا روس کی پیرالمپکس کمیٹی کی رکنیت فوراً معطل کی جا رہی ہے۔‘

خیال رہے کہ آئی پی سی کے فیصلے کے برعکس اولمپکس کی بین الاقوامی کمیٹی آئی او سی نے روس پر برازیل میں ہونے والے اولمپکس گیمز میں حصہ لینے پر مکمل پابندی عائد نہیں کی۔

آئی او سی نے مختلف کھیلوں کے انتظامی اداروں سے کہا تھا کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ آیا روسی کھلاڑی ممنوعہ ادویات کا استعمال تو نہیں کرتے رہے اور اگر وہ سمجھیں روسی کھلاڑی اس میں ملوث نہیں ہیں تو وہ ان کو اولمپکس میں حصہ لینے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈوپنگ ایجنسی کی ایک رپورٹ میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ 2011 سے 2015 کے عرصے میں موسم سرما اور موسم گرما کی اولمپکس کے دوران روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق روس نے سوچی میں منعقد ہونے والے سنہ 2014 کے سرمائی اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لیے ڈوپنگ پروگرام جاری کیا تھا۔