’روس نے سوچی اولمپکس میں ڈوپنگ کی‘

،تصویر کا ذریعہGetty
ایک رپورٹ کے مطابق روس نے سوچی میں منعقد ہونے والے سنہ 2014 کی موسم سرما کے اولمپکس کھیلوں میں کھلاڑیوں کی مدد کرنے کے لیے ڈوپنگ پروگرام آپریشن جاری کیا تھا۔
عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی کی جانب سے کی جانے تحقیقات میں یہ امر سامنے آیا ہے کہ روسی کھیلوں کی کمیٹی نے اپنے کھلاڑیوں کے پیشاب کے نمونوں میں ہیرا پھیری ’کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگرانی کی۔‘
یہ تحقیق روس کی انسداد ڈوپنگ کی لیبارٹری کے سابق سربراہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی وجہ سے کروائی گئی۔
گرگوری روڈچنکاف کا کہنا تھا کہ انھوں نے سوچی میں منعقد کھیلوں کے دوران درجنوں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
اس کمشن کی قیات کینیڈا سے تعلق رکھنے والے قانون اور کھیلوں کے پرافیسر رچرڈ مکلیرن نے کی جن کا کہا ہے کہ انھیں اپنے نتائج پر ’پوری طرح اعتماد‘ہے۔
گرگوری روڈچنکاف کا یہ بھی کہنا ہے کہ روسی خفیہ سروس نے ان کی مدد بھی کی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے اُن بوتلوں کو کھولنا سیکھ لیا تھا جن میں بیشاب کے نمونے رکھے گئے تھے جس کے بعد انھوں نے اصلی پیشاب کے نمونوں کو بدل کر ’صاف‘ نمونے ڈال دیے تھے۔
ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے رچرڈ مکلیرن نے سوئٹزر لینڈ کے شہر لوزان میں واقع انسداد ڈوپنگ لیبارٹری میں رکھے جانے والے سنہ 2014 کی سوچی کھیلوں کے پیشاب کے نمونوں کو لندن میں واقع ایک اور لیبارٹری میں یہ دیکھنے کے بھیجا کہ کیا بوتلوں پر کھرچنے نے نشان تھے یا نہیں۔
مکلیرن نے کہا کہ بوتلوں کو ’100 فیصد کھرچا گیا تھا‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ غیر تربیت یافتہ آنکھوں کو یہ نشان نہیں نظر آسکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے بعد امکانات ہیں کہ پانچ اگست کو برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے موسم گرما کے اولمپکس میں روس کی پابندی کے مطالبوں کو فروغ ملے۔



