اولمپکس میں کسی عرب خاتون کا پہلا تمغہ

18 سالہ سارہ احمد نے 255 کلوگرام وزن اٹھا کر تیسری پوزیشن حاصل کی
،تصویر کا کیپشن18 سالہ سارہ احمد نے 255 کلوگرام وزن اٹھا کر تیسری پوزیشن حاصل کی

ریو میں جاری اولمپکس مقابلوں کا پانچواں دن برطانیہ کے لیے اچھا رہا اور اس کے ایتھلیٹس نے سونے کے دو اور کانسی کے چار تمغے حاصل کیے تاہم امریکہ اب بھی 11 طلائی تمغوں سمیت کل 32 تمغے جیت کر میڈل ٹیبل پر سرفہرست ہے۔

بدھ کو مصری ویٹ لفٹر سارہ احمد خواتین کے 69 کلوگرام کے مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیت کر عرب دنیا کی وہ پہلی ایتھلیٹ بن گئی ہیں جنھوں نے اولمپکس میں کسی بھی مقابلے میں کوئی تمغہ حاصل کیا ہے۔

٭<link type="page"><caption> ریو 2016: میڈل ٹیبل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/rio2016medaltable" platform="highweb"/></link>

٭ <link type="page"><caption> آؤ ریو چلیں: بی بی سی کا اولپمکس پر خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/rio_olympics_2016_urdu" platform="highweb"/></link>

حجاب میں ملبوس 18 سالہ سارہ احمد نے 255 کلوگرام وزن اٹھا کر چینی شیانگ یانمے اور قزاقستان کی ظہیرہ زاپارکول کے بعد تیسری پوزیشن حاصل کی۔

مصر نے ویٹ لفٹنگ کے مقابلوں میں آخری بار 1948 میں اولمپکس تمغہ جیتا تھا۔

ادھر کویت کے نشانہ باز فہید الديحاني ڈبل ٹریپ مقابلے میں سونے کے تمغے کے حقدار قرار پائے۔ تاہم انھیں یہ تمغہ کویت کے پرچم تلے نہیں بلکہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے پرچم تلے دیا گیا۔

امریکی تیراک کیٹی لیڈیکی نے طلائی تمغہ حاصل کیا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنامریکی تیراک کیٹی لیڈیکی نے طلائی تمغہ حاصل کیا

وہ آئی او سی کے پرچم تلے اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنے والے پہلے کھلاڑی ہیں۔

کویتی حکومت کی ملک میں کھیلوں کے انتظام میں مداخلت پر اولمپکس کمیٹی سے تنازع کی وجہ سے ریو اولمپکس میں کویت کے کھلاڑی اپنے ملک کی جانب سے شریک نہیں ہیں۔.

ادھر امریکی خواتین کی تیراکی کی ٹیم نے چار ضرب دو سو میٹر فری سٹائل مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کر کے امریکہ کو پانچویں روز بھی پوائنٹس ٹیبل پر سرِفہرست رکھنے میں مدد دی۔

امریکی ٹیم کی قیادت کیٹی لیڈیکی نے کی اور یہ ان کا ریو میں تیسرا طلائی اور مجموعی طور پر چوتھا تمغہ ہے۔

اس مقابلے میں آسٹریلیا نے چاندی، جب کہ کینیڈا نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔

جیک لا اور کرس میئر نے سنکرونائیزڈ ڈائیونگ میں طلائی تمغہ جیتا
،تصویر کا کیپشنجیک لا اور کرس میئر نے سنکرونائیزڈ ڈائیونگ میں طلائی تمغہ جیتا

سپین کی مشہور تیراک مِریا بیلمونتے گارسیا نے بالآخر سونے کا تمغہ حاصل کر لیا۔ دو چاندی اور ایک کانسی کا تمغہ جیتنے کے بعد انھوں نے دو سو میٹر بٹرفلائی مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

گارسیا 2012 میں لندن میں ہونے والے اولمپکس میں بھی اسی مقابلے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا جب کہ امریکی کیٹی لیڈیکی اول آئی تھیں۔

امریکہ نے اب تک ان مقابلوں میں کل 32 تمغے جیتے ہیں، جن میں سونے کے 11، چاندی کے 11 اور کانسی کے دس تمغے شامل ہیں۔

پانچواں روز برطانیہ کے لیے خاصا اچھا رہا اور اس کے کھلاڑیوں نے دو طلائی تمغوں سمیت چھ تمغے حاصل کر کے اپنے ملک کو پوائنٹس ٹیبل پر نویں پوزیشن پر پہنچا دیا۔

جاپانی جمناسٹ اچیمورا نے اپنا تیسرا اولمپک طلائی تمغہ جیتا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجاپانی جمناسٹ اچیمورا نے اپنا تیسرا اولمپک طلائی تمغہ جیتا

جو کلارک نے کشتی رانی میں، جب کہ کرس میئرز اور جیک لا نے سِنکرونائئزڈ ڈائیونگ میں سونے کا تمغہ حاصل کیا۔

جاپان کے کوہیے اچیمورا نے مردوں کی جمناسٹکس میں ایک اور تمغہ حاصل کر کے اپنے اولمپک طلائی تمغوں کی تعداد تین تک پہنچا دی۔

27 سالہ جمناسٹ نے ایک سخت مقابلے کے بعد افقی بار پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوکرین کے اولیگ ورنیائف کو شکست دی۔

جو کلارک نے کائکنگ کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا
،تصویر کا کیپشنجو کلارک نے کائکنگ کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا

تمغوں کی دوڑ میں چین بدستور دوسرے نمبر پر ہے۔ پانچویں روز ڈنگ ننگ نے خواتین کے ٹیبل ٹینس مقابلوں میں سونے کا تمغہ حاصل کر کے اپنے ملک کے طلائی تمغوں کی تعداد دس تک پہنچا دی۔ چین کے کل تمغوں کی تعداد 23 ہے۔

برازیل کی فٹبال ٹیم نے ڈنمارک کو چار صفر سے ہرا کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ اس سے قبل برازیل کے دونوں پول میچ بےنتیجہ ثابت ہوئے تھے۔

ادھر ریو 2016 کے منتظمین نے ماریا لینک اکویٹکس سینٹر کے سوئمنگ پول کا رنگ تبدیل ہو کر سبز ہو جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے جلد درست کر لیا جائے گا۔

برازیل نے بالآخر ڈنمارک کو شکست دے کر ریو میں پہلی کامیابی حاصل کر لی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبرازیل نے بالآخر ڈنمارک کو شکست دے کر ریو میں پہلی کامیابی حاصل کر لی

انٹرنیشنل سوئمنگ فیڈریشن نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ پانی کی ٹینکیوں سے بعض کیمیکل ختم ہو گئے تھے، البتہ اس سے تیراکوں کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

دوسری جانب گھڑسواری کے مرکز میں ایک اور کارتوس ملنے کے بعد سے سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ عام خیال ہے یہ کارتوس قریب ہی واقع فوجی احاطے کی طرف سے آیا ہے۔