ایتھلیٹس ایسا کیوں کرتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہEPA
کیمروں اور کمپیوٹر پروگراموں کی مدد سے مخالف کھلاڑیوں کی حرکات اور تدبیروں کا مسلسل جائزہ لیا جاتا ہے۔ والی بال ایسا کھیل ہے جس میں جیت کے لیے ٹیکنالوجی پر بہت انحصار کیا جاتا ہے۔
لیکن 2012 میں لندن اولمپکس کے دوران برازیل کی خواتین ٹیم کے کوچ جاز رابرتوں گوئماریز کو وہاں ایک معزور شخص جسے ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف کی شکایت تھی کی موجودگی سے اعتماد ملا۔
سنہ 1992 میں بارسلونا اولمپکس میں وہ برازیل کی مردوں کی ٹیم کی کوچنگ کر رہے تھے اور برازیل نے سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ اس دوران ایک ریستوران میں ایک ایسے ہی معزور ویٹر نے انھیں کھانا پیش کیا تھا۔
بیس سال کے بعد یہ دیکھ کر انھیں خیال آیا کہ شاید یہ قسمت کا اشارہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
جاز رابرتوں گوئماریز نے 2012 میں امریکہ کی ٹیم کے خلاف جیت کے بعد کہا تھا کہ ’میں نے اس معزور ویٹر کی کمر پر اولمپکس پن کے تبادلے کے بہانے سے ہاتھ لگایا اور دعا کے لیے کہا کہ ہماری ٹیم فائنل میں پہنچ جائے۔‘
اولمپکس کے عالمی کھلیوں کے دوران توہمات اور رسومات کا کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔
ان میں بعض ’غائبانہ‘ رسومات بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر مایۂ ناز امریکی تیراک مقابلے کے آغاز کے مقام پر جانے سے قبل تین مرتبہ اپنے بازو گھماتے ہیں۔
جاپانی گھڑ سوار یوشیکا اویوا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی بھی مقابلے سے قبل اپنے گھوڑے اور خود پر نمک چھڑکتے ہیں۔
امریکی ویٹ لفٹر مورگن کنگ کا کہنا ہے کہ وہ ایک ہی پینٹ اور جرابوں کا جوڑا پورے ٹونامنٹ میں استعمال کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اسی طرح برطانوں ٹریک سائیکلسٹ لارا ٹراٹ جو کہ لندن اولمپکس کی چیمپیئن ہیں ہمیشہ ریس سے قبل صاف جرابیں پہن کر گیلے تولیے پر کھڑی ہوتی ہیں، جس کی وجہ ایک بار ان کا اتفاقاً گیلے تولیے پر چلنا تھا جس کے بعد وہ جونئیر ورلڈ چیمپیئن شپ جیتی تھیں۔
بعض بڑے ایتھلیٹس میں نرم کھلونے اور خوش قسمت سمجھی جانے والی چیزیں بھی مشہور ہوتی ہیں۔
برازیل کے لیے 2008 میں لانگ جمپ مقابلوں میں سونے کا تمغہ جیتنے والی مورین میگی کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے سامان میں معمول کے آلات کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا کھلونا بھی تھا جو کہ ایک شیر بنا ہوا تھا اور وہ خوش قسمتی کے لیے تھا۔
کچھ ایسا ہی ریو اولپمکس 2016 کے دوران بھی ہے۔ آسٹریلین رگبی ٹیم کی کھلاڑی ایوینیا پیلیٹ کے ساتھ ایک چھوٹا سا پلاسٹک کا کینگرو بھی ہے جو کہ میدان میں رکھا ہوتا ہے۔ یہ کھلونا اس وقت بھی موجود تھا جب گذشتہ دنوں ان کی ٹیم نے نیوزی لینڈ کی خواتین ٹیم کو شکست دے کر رگبی سیون میں سونے کا تمغہ جیتا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان مثالوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توہمات کھیلوں کی دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہیں اور اس کا کسی خاص کلچر یا واقعے سے تعلق نہیں۔ کھیلوں کی بہت سی اکیڈیمیز اس نظریے کو سنجیدگی سے لیتی ہیں کہ غیر یقینی صورتحال میں ان توہمات کی مدد سے ایتھلیٹس کا اعتماد بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس کے دو نام نہاد فوائد ہیں: ایک ان کی مدد سے ذہن میں منفی خیالات نہیں آتے اور یہ غصے اور اوسان پر قابو پانے کے لیے ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس خود پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
ساؤ پاؤلو کی یونیورسٹی آف کیپینس کے سپورٹ سائیکالوجی اینڈ نیوو سائنس میں کوارڈینیٹر پاؤلا ٹیکسیرا فرنینڈس نے اسے کچھ یوں بیان کیا ہے۔’علم نفسیات میں اسے ہم ایکسٹرنل لوکس آف کنٹرول کہتے ہیں، جو کہ ایک ایسی امید ہے کہ توہمات یا لکی چارم جیسی چیزیں کارکردگی پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔‘
انھوں نے مزید بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کا مذہبی عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ان ایتھلیٹس کی بات نہیں کر ہے ہیں جو خود کو مثال بناتے ہیں لیکن وہ جو کہ صرف اس لیے خاص رنگ کی جرابیں پہنتیں ہیں کہ اس سے مدد مل سکتی ہے۔‘
فرنینڈس کا کہنا ہے کہ ’توہماتی رویہ زیادہ تر ایسے کھیلوں میں دکھائی دیتا ہے جس میں کھلاڑی اکلیلا ہو، خاص طور پر ٹینس اور جمناسٹک۔ حالانکہ اسے والی بال اور باسکٹ بال جیسے کھیلوں میں بھی دیکھا گیا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
’ہمارے تجربے میں چونکہ ہم گراس روٹ اور پروفیشنل ایتھلیٹس کے ساتھ کام کرتے ہیں یہ معلوم ہوا ہے کہ ایسے توہماتی رویے صرف کھیل کے میدان میں ہی ہوتے ہیں نہ کہ عام حالات میں۔‘
لیکن ماہرین خواتین اور مرد کھلاڑیوں میں ایسے رویے کو بڑھانے سے ہچکچاتے ہیں۔
لندن میں ذہنی صلاحیتوں کی کوچنگ کمپنی اننر ڈرائیو ایسے طریقے کا استمعال کرتی ہے جس سے کھلاڑیوں کو ان چیزوں کی طرف راغب کیا جاتا ہے جو براہ راست کھیلوں کی کارکردگی کے ساتھ منسلک ہوں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
کمپنی کے بانی بریڈلی بشچ کا کہنا ہے کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایتھلیٹ خود اپنی فٹنس کا جائزہ لیں اور معلوم کریں کہ وہ کہاں سکون محسوس کرتے ہیں اور کہاں پر ان کا رویہ تبدیل ہوجاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کوئی اپنی لکی جرابیں بھول جانے پر غصہ ہو جاتا ہے، تو یہ ایک فائدہ مند معمول کے بعد میں توہم پرستی میں تبدیل ہوجاتا ہے اور پھر ایک سنجیدہ روکاوٹ بن جاتی ہے۔‘
ماہرین نفسیات اس حقیقت سے خبردار کرتے ہیں: ’اگر کوئی ایتھلیٹ بہتر محسوس نہیں کر رہا، تو قسمت سے جڑی کوئی چیز یا معمول انھیں تمغہ نہیں دلا سکتا۔مثال کے طور پر مائیکل فیلپس کے 25 اولپکس کے تمغوں میں سے چار سونے کے نہیں ہیں۔‘



