اولمپکس میں امریکہ کی باحجاب شمشیر زن

ابتحاج محمد ریو اولمپکس میں امریکہ کی نمائندگی کرنے والی واحد مسلمان خاتون ہیں۔
حجاب پہننے والی ابتحاج شمشیر زنی کرتی ہیں اور حال ہی میں امریکہ میں ان پر’دہشت گرد‘ ہونے کا جملہ کسا گیا تھا۔
ریو جانے سے قبل ابتحاج نے امریکی خاتونِ اول کو اس کھیل کے گر سکھانے کی کوشش بھی کی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ابتحاج کا کہنا تھا کہ ’ امریکہ کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں یہ غیرمعمولی ہے کہ ایک مسلمان خاتون اولمپکس میں امریکہ کی نمائندگی کر رہی ہے۔‘
ابتحاج کا مزید کہنا تھا کہ ’میں عام طور پر مسلمان خواتین کے بارے میں پائے جانے والے دقیانوسی خیالات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔ میں لوگوں کو دکھانا چاہتی ہوں کہ ہم نہ صرف اولمپکس میں حصہ لی رہی ہیں بلکہ دنیا کی مضبوط ترین اولمپکس ٹیم کا حصہ ہیں۔‘
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھنا چاہیے تاہم ابتحاج دونوں پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے حالات میں بہتری لائیں۔
امریکی ریاست نیوجرسی میں پیدا ہونے والی ابتحاج کے بقول ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف معاشروں اور مذاہب میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دور کی جائیں۔

ابتحاج کے بقول کھیلوں سے لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے: ’اگر میں مسلمان نوجوانوں اور دوسرے بچے، جنھیں نسل پرستی کا سامنا رہا ہے کے لیے رول ماڈل بن سکوں تو میرے نزدیک یہ ایک مثبت چیز ہوگی۔‘
اگرچہ حالیہ عرصے میں ابتحاج کے کھیل میں بہت بہتری آئی ہے اور شمشیر زنی کے کھیل کی عالمی رینکنگ میں وہ 113 ویں پوزیشن سے آٹھویں پوزیشن پر آگئی ہیں لیکن ان کے کھیل کے بجائے امریکی ذرائع ابلاغ ان کے لباس پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
ابتحاج کے بقول ’حجاب کرنا میری ذاتی خواہش ہے، یہ میری شخصیت کا حصہ ہے اور خدا سے روحانی رشتے کا ذریعہ ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں اکثریت غیر مسلمانوں کی ہے یہ مجھے میرے مذہب کے بارے میں احساس دلاتا ہے۔‘
حجاب کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمی کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ عورتوں کو زبردستی نہیں پہنایا جاتا، خصوصاً امریکہ میں، یہ ایک شعوری فیصلہ ہے جو میں نے خود کیا ہے۔‘
ابتحاج سے جب پوچھا گیا کہ مسلمانوں پر متعدد بار تنقید کرنے والے رپبلکن جماعت کے صدارتی امید وار ڈونلڈ ٹرمپ اگر ملک کے صدر بن گئے تو کیا وہ امریکہ چھوڑ دیں گی؟
تو ان کہنا تھا اس کے بارے میں تو انھیں معلوم نہیں تاہم عوامی اور سرکاری شخصیات کو سوچ سمجھ کر بیانات دینے چاہییں۔

،تصویر کا ذریعہAP
اپنا موازنہ باکسر محمد علی سے کیے جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’محمد علی ایک عظیم باکسر تھے، کچھ لوگ ان کے رنگ کی وجہ سے ان کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود وہ حق پر بات کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔‘
ابتحاج کے بقول ’ میرا محمد علی سے ایک لمحے کے لیے بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
ان کہنا ہے کہ وہ اپنی برادری کو درپیش مسائل کے بارے میں آواز بلند کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔
اگر ابتحاج ریو میں میڈل جیتنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو یقیناً اپنے مقصد کے حصول میں انھیں مدد ملے گی۔



