معین علی نے انگلینڈ کو بچا لیا، پاکستان کو ایک نقصان

،تصویر کا ذریعہAFP
انگلینڈ اور پاکستان کے مابین سیریز کے چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ کے پہلے روز انگلینڈ کے لوئر آرڈر بیٹسمینوں نے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں لاکھڑا کیا ہے۔
آل رونڈر معین علی اور وکٹ کیپر جانی بیرسٹو جب کریز پر اکٹھے ہوئے تو انگلینڈ کا سکور 110 رنز تھا اور پانچ بیٹسمین پویلین پہنچ چکے تھے۔
جانی بیرسٹو اور معین علی کی ایجبسٹن میچ میں فیصلہ کن پارٹنرشپ نے میچ پر انگلینڈ کی گرفت مضبوط کر دی تھی وہ ایک بار پھر ٹیم کا سہارا بنے۔
٭<link type="page"><caption> تفصیلی سکور کارڈ کے لیےکلک کریں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90217" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> پاکستان چھ برس بعد انگلینڈ میں: خصوصی ضمیمہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/pak_england_cricket_series_zs" platform="highweb"/></link>
انگلینڈ کی پوری ٹیم جب آخری سیشن میں 328 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی تو پاکستان کو کم از کم تین اوور کھیلنے تھے۔
گذشتہ میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سیمع اسلم اس بار صرف تین رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اظہر علی اور نائٹ واچ مین یاسر شاہ ناٹ آؤٹ بیٹسمین ہیں۔
ٹاس جیت کر الیسٹر کک نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور لندن کے ابرآلود موسم میں اننگز کا آغاز کیا۔ ابتدائی اووروں میں انگلش بیٹسمینوں نے بغیر کسی پریشانی کے ٹیم کا سکور 23 رنز تک پہنچا دیا۔
پاکستان کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب ایلکس ہیلز محمد عامر کی گیند پر یاسر شاہ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایلکس ہیلز کےخیال میں فیلڈر نے گیند کو زمین پر لگنے کے بعد کیچ کیا لیکن امپائر نے انھیں کیچ آؤٹ قرار دیا۔ جب فیلڈ امپائر نے تھرڈ امپائر سے صاف کیچ پکڑنے کی تصدیق کی کوشش کی تو صرف ایک زاویے کی فٹیج مہیا تھی اور اس طرح تھرڈ امپائر نے آن فیلڈ امپائر کے فیصلے کو برقرار رکھا اور ایلکس ہیلز سر ہلاتے ہوئے پویلین لوٹ گئے۔
ہیلز کے آؤٹ ہونے کے بعد جو روٹ نے ایلٹسر کک کے ساتھ مل کر اننگز آگے بڑھانا شروع کیا اور ٹیم کا سکور 69 رنز تک پہنچا دیا۔ ایلسٹر کک جو رواں سیریز میں انتہائی عمدہ بیٹنگ کر رہے ہیں ایک بار پھر اپنی اننگز کا آغاز انتہائی عمدگی سے کیا۔
الیسٹر کک کو پہلی زندگی اس وقت ملی جب وہاب ریاض کی گیند پر پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے افتخار احمد نے ان کا کیچ ڈراپ کر دیا لیکن کک اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور اگلے ہی اوور میں 35 کے انفرادی سکور پر سہیل خان کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔
وہاب ریاض نے دوسری جانب سے جو روٹ کو کیچ آؤٹ کرا کے انگلش ڈریسنگ روم میں کھلبلی مچا دی۔ جیمز ونس اور گیری بیلنس ایک بار پھر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے اور 110 کے مجموعی سکور پر انگلینڈ کے پانچ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
کھانے کے وقفے کے بعد پاکستانی فیلڈروں نے اوپر تلے متعدد کیچ ڈراپ کیے اور جانی بیرسٹو اور معین علی نے نئی زندگیاں پانے کے بعد جم کر بیٹنگ کی اور چائے کے وقفے تک ٹیم کے سکور میں 90 رنز کا اضافہ کیا۔
چائے کے وقفے کے بعد جانی بیرسٹو 55 رنز بنا کر محمد عامر کی گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
وہاب ریاض نے جنھیں پچھلے میچ میں ڈراپ کر کے سہیل خان کو ٹیم میں شامل کیا گیاتھا، اپنی بولنگ کا آغاز انتہائی شاندار انداز میں کیا اور اپنی تیز رفتار بولنگ سے انگلش کھلاڑیوں کو پریشان کر دیا۔
انھوں نے آٹھ اوورں کے پہلے سپیل میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ اگر وہاب ریاض اپنے نوبال کرنے کی عادات پر قابو پاسکتے اور فیلڈر بھی ان کا ساتھ دیتے تو وہ اپنے پہلے سپیل میں پانچ وکٹیں حاصل کر سکتے تھے۔
اپنے پہلے سپیل میں وہاب ریاض نے 92 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کی جو رواں سیریز میں کسی بھی فاسٹ بولر کی جانب سے کرائی جانے والی تیز ترین گیند تھی۔
پاکستان کی جانب سے سہیل خان ایک بار پھر کامیاب بولر ثابت ہوئے اور انھوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستانی فیلڈروں نے کئی کیچ ڈراپ کیے۔ سب سے پہلے افتحار احمد نے وہاب ریاض کی گیند پر الیسٹر کک کا نسبتاً آسان کیچ ڈراپ کر دیا۔
اس کے بعد اظہر علی نے سلپ میں معین علی کا کیچ ڈراپ کردیا۔ بدقسمت بولر محمد عامر تھے جن کےاس سیریز میں چار کیچ ڈراپ کیے جا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وکٹ کیپر جانی بیرسٹو وہاب ریاض کی گیند پر یاسر شاہ کو کیچ تھما بیٹھے لیکن وہاب ریاض کی گیند کو نوبال قرار دے دیاگیا۔ وہاب ریاض نےاس اننگز میں اٹھ نو بالز کرائیں۔
میچ کے آغاز پر دونوں ٹیموں نے کوئٹہ میں ہونے والے دہشتگرد حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
پاکستان نے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں، 25 سالہ آل راؤنڈر افتخار احمد اور وہاب ریاض کو ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔



