ایجبیسٹن ٹیسٹ: انگلینڈ نے پاکستان کو 141 رنز سے شکست دے دی

ایجبیسٹن میں کھیلے جانے والے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 141 رنز سے شکست دے کر چار میچوں کی سیریز میں دو ایک سے برتری حاصل کر لی ہے جب کہ ایک میچ ابھی باقی ہے۔
میچ کے پانچویں دن انگلینڈ نے سپورٹنگ ڈیکلیریشن کر کے پاکستان کو 84 اووروں میں 343 رنز کا مشکل مگر قابلِ حصول ہدف دیا تھا، لیکن اس کے جواب میں پاکستان کی ٹیم 201 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
پوری اننگز میں دوسری وکٹ کے لیے 73 اور آخری وکٹ کے لیے 50 رنز کی شراکت کے علاوہ وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں جس کی وجہ سے میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔
٭ <link type="page"><caption> میچ کا تفصیلی سکور کارڈ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/sport/cricket/scorecard/ECKP90216" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> ایجبسٹن کا وہ سحر آگیں اور طلسماتی لمحہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2016/08/160807_pak_eng_edgbaston_spell_mb.shtml" platform="highweb"/></link>
میچ کے اختتام پر مصباح الحق نے کہا کہ ’تیسرے دن تک حالات اچھے چل رہے تھے، لیکن کے اس کے بعد میچ کا نقشہ تبدیل ہو گیا۔ ہم تھوڑا بدقسمت تھے، یونس خان لیگ سائیڈ پر آؤٹ ہو گئے۔‘
راحت علی اور سہیل خان کی آخری جوڑی نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کا سکور 200 رنز کے پار کر دیا، لیکن یہ صرف میچ کا ناگزیر نتیجہ تھوڑی دیر موخر کرنے کی کوشش تھی۔
سہیل خان نے 36 رنز بنائے اور وہ آؤٹ ہونے والے آخری بلےباز تھے۔ راحت علی 15 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
اس سے قبل نوجوان اوپنر سمیع اسلم نے دکھایا کہ اس وکٹ پر کیسے کھیلا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب سے پاکستان کی تجربہ کار بیٹسمین ایک ایک کر کے پویلین کا رخ کرتے رہے۔ سمیع اسلم نے 70 رنز بنائے اور وہ فن کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
سمیع اسلم اور اظہر علی کے درمیان دوسری وکٹ کی 73 رنز کی شراکت سے کچھ امیدیں بندھی تھیں لیکن پھر اظہر، یونس خان، مصباح الحق، اسد شفیق اور سرفراز احمد کے اوپر تلے آؤٹ ہونے کی وجہ سے پاکستانی ٹیم مشکلات سے دوچار ہو گئی۔

پاکستان کی پہلی وکٹ صرف چھ رنز پر اس وقت گر گئی جب محمد حفیظ ایک رنز بنا کر سٹوارٹ براڈ کی گیند پر لانگ لیگ پر کرس ووکس کو کیچ تھما بیٹھے۔ اس سے قبل پہلی اننگز میں وہ بغیر کوئی سکور کیے بغیر آؤٹ ہو گئے تھے۔
اس کے بعد اظہر علی اور سمیع کی عمدہ شراکت ہوئی، تاہم اظہر معین علی کا شکار ہو گئے۔ انھوں نے 38 رنز بنائے۔ یونس خان چوتھی اننگز میں عمدہ کھیل پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں لیکن ان کا انگلینڈ کا اب تک کا دورہ مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ اس اننگز میں بھی وہ صرف چار رنز بنا کر اینڈرسن کی گیند پر بیرسٹو کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔
لیکن پاکستانی اننگز کو غالباً سب سے بڑا دھچکہ کپتان مصباح الحق کی وکٹ کی صورت میں اٹھانا پڑا جنھیں سٹیون فن نے بیرسٹو کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔ مصباح نے دس رنز بنائے تھے۔
اس کے بعد اسد شفیق بھی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور بغیر کوئی رن بنائے ووکس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ انھوں نے ریویو لیا لیکن وہ بھی انھیں نہ بچا سکا۔ پہلی اننگز میں بھی اسد شفیق صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انگلینڈ کی جانب سے سبھی بولروں نے بےحد نپی تلی بولنگ کی اور اس کے پانچوں بولروں اینڈرسن، براڈ، فن، ووکس اور معین علی نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
پانچویں دن کھیل کے آغاز پر انگلینڈ نے چھ وکٹوں کے نقصان 445 رنز بنا کر اننگز ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان کو 84 اووروں میں 343 رنز کا ہدف ملا تھا۔
انگلینڈ کی اننگز کے اختتام پر معین علی 86 اور ووکس تین رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
پانچویں دن کے آغاز پر معین علی نے جارحانہ انداز میں بیٹنگ کا آغاز کیا اور معین علی نے یاسر شاہ کو دو مسلسل چھکے لگا دیے، تاہم اگلے ہی اوور میں سہیل خان نے بیرسٹو کریز کو 83 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر دیا۔
پاکستان کی طرف سے سہیل خان، محمد عامر اور یاسر شاہ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جب کہ راحت علی کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
انگلینڈ کے سبھی بلےبازوں نے عمدہ بیٹنگ کی اور پانچ کھلاڑی نصف سینچریاں بنانے میں کامیاب ہوئے۔ معین علی 86 رنز ناٹ آؤٹ کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے۔
اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 400 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی اور اسے انگلینڈ کے خلاف 103 رنز کی برتری حاصل ہوئی تھی۔



