ایجبسٹن کا وہ سحر آگیں اور طلسماتی لمحہ

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, احمر نقوی
- عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار
فن کا مقصد کیا ہے؟ انسانیت اس کی تخلیق میں کوشاں کیوں رہتی ہے؟ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ فن تخلیقی عمل ہے جو کہ ربانی صلاحیت کا حامل ہے۔
جب ہم کسی چیز کی تخلیق کرتے ہیں تو ہم اس مقدس اقدار میں شریک ہوتے ہیں۔ جب ہم فن کی تخلیق کرتے ہیں تو ہم در اصل دنیا کے سامنے اپنی ذات کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں یا پھر ہم اسے کس طرح دیکھتے ہیں یا اسے کس طرح دکھانا چاہتے ہیں۔
فن شاید انسانی تجربات کو بیان کرنےکے اہم ترین وسیلوں میں شامل ہے۔ لیکن فن کی تخلیق خالق کو سدا اچھی حالت میں نہیں چھوڑتی، بعض اوقات کسی فن پارے کے لیے انھیں زندگی میں بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ عظیم فن ہمیں یا پھر اس کے خالق کو سدا خوشی فراہم نہیں کرتا۔
ایجبسٹن میں جاري تیسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستان کی جانب سے ایک عرصے بعد پرزور کھیل کا ایک وقفہ گزرا۔ انگلینڈ نے کل کی پاکستان کی سبقت کو ختم کر دیا تھا اور اس کے دونوں اوپنر جا چکے تھے۔ پچ سے کوئی مدد نہیں مل رہی تھی لیکن میچ متوازن تھا۔ پاکستان نے غلطیوں کے انتظار کا کھیل شروع کردیا اور نسبتا پھیلی ہوئی فیلڈنگ کے ساتھ آف سٹمپ کے باہر گیند پھینکنے لگے۔ پچ پر دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک موجود تھے جو کہ اپنی بہترین فارم میں بھی ہیں۔ اور پاکستانی بولرز ان کی پہنچ سے قدرے دور گیند پھینک رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
دھیرے دھیرے میڈن اوورز جمع ہونے لگے۔ ایک کے بعد ایک گیند جس پر کوئی رن نہ بنے اور جس پر بات کرنے کی کوئی گنجائش بھی نہ ہو۔ ایسا لگ رہا تھا کہ برمنگھم کا سٹیڈیم متحدہ عرب امارات کا خاموش سٹیڈیم ہو گیا ہے ہو جہاں پاکستان اپنی ریگستانی حکمت عملی پر کاربند ہو۔
پانچ اوورز بغیر کسی رن کے نکل گئے پھر اچانک ایک گیند بیٹ کو چھو کر نکل گئی۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد بیٹسمین صبر کھوتے اور شاٹ لگانے کی کوشش کرتے۔ جو روٹ کے ساتھ ایسا کئی بار ہوا جو کہ راحت علی کی گیند کے سامنے تھے۔ راحت علی اپنی بولنگ میں خفیف سی تبدیلی کرتے اور انھوں نے جو روٹ کو غلطی کرنے پر تقریبا مجبور کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAP
حزب اختلاف کی نگاہ سے دیکھنا اشتعال انگیز تھا لیکن دوسروں پر بیٹ اور بال کی یہ کشمکش مسحور کن اثر دکھا رہی تھی۔ تیز سکورنگ کے زمانے میں ایک ایسے بیٹسمین کے خلاف جو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہو پاکستان نے وقت کی رفتار کو جیسے روک دیا تھا۔
تاہم راحت کی جانب سے ایک فل گیند آئی جو روٹ کے قریب تھی مگر پھر بھی قدرے وائڈ تھی۔ انھوں نے اس کے خلاف اس امید میں سخت سٹروک لگایا کہ ان کی قوت اور قوت ارادی اس چیلنج پر انھیں فتح یاب کرے گی۔
لیکن گیند کہیں بہتر تھی، وہ اوپر اٹھ رہی تھی اور روٹ کے اندازے سے کہیں زیادہ باہر کی جانب گھوم رہی تھی۔ اس نے روٹ کے بیٹ کا باہری کنارہ چھو لیا اور کیچ پہلی سلپ کی جانب نکلا جہاں کھلاڑی کا ہاتھ اس کا انتظار کر رہا تھا تاکہ وہ ایک فن پارے کو مکمل کرے۔
لیکن محمد حفیظ نے وہ کیچ گرا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
یہ وہ وقت نہیں تھا جب کھیل کی رفتار بدل گئی۔ یہ دن میں کافی دیر بعد رونما ہوا جب معین علی اور جانی بیرسٹو نے ميچ کو بچانے کی کوشش میں ایسے مقام پر لا کھڑا کیاجہاں سے وہ میچ جیت بھی سکتے ہیں۔
لیکن حفیظ کے ہاتھوں سے کیچ کا چھوٹنا وہ مرحلہ تھا جب طلسم ٹوٹا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس میں صبر و ہنرمندی کا ماہرانہ مظاہرہ جاری تھا اور اس نے میچ کا رخ تبدیل کر دیا۔
کیچ گرا دینے سے وہاں جو کچھ ہوا اس کی خوبصورتی ختم یا کم نہیں ہو گئی لیکن فنکار اور اس کے مداح کے لیے یہ خوبصورت المیہ تھا۔



