’وقفے کے بعد میچ پر گرفت کمزور ہوئی‘

مشتاق احمد نے کہا کہ چار بولروں سے ہی ٹیم نے لارڈز میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمشتاق احمد نے کہا کہ چار بولروں سے ہی ٹیم نے لارڈز میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تھا
    • مصنف, غضنفر حیدر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، برمنگھم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کوچ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ چائے کے وقفے کے بعد پاکستان کو وکٹ نہ ملنے کی وجہ سے میچ پر پاکستان کی گرفت کمزور ہو گئی۔

برمنگھم میں کھیلے جانے والے تیسرے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کے اختتام کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوے ٹیم کےبولنگ کوچ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پوزیشن مستحکم تھی۔

٭<documentLink href="" document-type=""> ’آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا‘</documentLink>

٭ <documentLink href="" document-type=""> پہلے دن کا کھیل، آرٹ فلم یا فارمولا؟</documentLink>

یاد رہے کہ چوتھے دن کے اختتام پر انگلینڈ نے پانچ وکٹوں کے نقصان 414رنز بنا لیے ہیں اور اسے پاکستان پر 311 رنز کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب انگینڈ کے 170 رنز پر چار کھلاڑی آوٹ تھے تب ٹیم کو ایک یا دو وکٹ ملنے سے مجموعی صورتحال تبدیل ہو جاتی۔

فٹنس پر سوال کے جواب میں مشتاق احمد نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے کھلاڑی فٹنس پر بہت توجہ دے رہے ہیں اور ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فٹنس بہت اہم ہے۔

پاکستان نے اس میچ کے لیے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں اور شان مسعود اور وہاب ریاض کی جگہ سمیع اسلم اور سہیل خان کو ٹیم کو جگہ دی گئی ہے۔

ٹیم میں چار بولروں کو کھیلانے پربولنگ کوچ مشتاق احمد نے کہا کہ چار بولروں سے ہی ٹیم نے لارڈز میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ چار بولروں کے ساتھ کھیلنے کے فوائد اور نقصانات دونوں ہیں۔ کوچ مشتاق احمد کے مطابق ’اننگز لمبی ہونے پر چار بولرز تھک سکتے ہیں اور تھکنے کے بعد اگر اُن کا ذہن ساتھ بھی دے رہا تو وہ جسمانی طور پر تھک چکے ہوتے ہیں۔‘

مشتاق احمد نے کہا کے کل پاکستان کی بیٹنگ آنے کے بعد اوپنرز کی کوشش ہوگی کے دس پندرہ اورز تک وکٹ پر رکے رہیں۔

پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیموں کے درمیان چار میچوں کی یہ سیریز فی الوقت ایک ایک سے برابر ہے۔