پہلے دن کا کھیل، آرٹ فلم یا فارمولا؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, احمر نقوی
- عہدہ, سپورٹس تجزیہ کار
جہاں تک سینیما کی بات ہے تو لوگ عموماً دو قسموں کی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
ایک تو ’آرٹ فلمیں‘ ہیں، جنھیں جنوبی ایشیا میں لوگوں کی قلیل تعداد دیکھتی ہے، جن کی کہانیوں میں چند مخصوص تصورات پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔البتہ دنیا بھر میں زیاد تر مختلف اصناف کی تفریحی فلمیں زیادہ بنائی جاتی ہیں۔
کرکٹ کی بات کریں تو انگلینڈ میں کپتان عموماً ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کے سکرپٹ پر عمل کرتا ہے۔ اسے توقع ہوتی ہے کہ کالے بادل چھائیں گے، گیند بےتحاشا سوئنگ ہو گی، اور مخالف ٹیم کم سکور پر ڈھیر ہو جائے گی۔
دوسرے الفاظ میں یہ ایک ایسی صنف ہے جس سے کرکٹ شائقین بخوبی واقف ہیں اور میری طرح کئی لوگ پاکستان کو سازگار حالات میں بولنگ کرتے دیکھنا چاہتے ہیں۔
جب ایجبیسٹن میں پاکستان اور انگلینڈ کے مابین تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن کا کھیل ختم ہوا تو شبہ گزرا کہ جو ہم نے دیکھا وہ دراصل آرٹ فلم تھی، جس میں تحمل اور غلطی کے موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ یہ دو تصورات ایک ایسی سیریز کے بنیادی نکات ہیں جہاں دونوں ٹیمیں لگ بھگ ہم پلہ ہیں، یعنی اچھا بولنگ اٹیک اور بلےباز جو لمبی اننگز کھیلنا جانتے ہیں۔
اب تک کھیلے جانے والے دونوں ٹیسٹ میچوں کی فاتح وہی ٹیم رہی ہے جس نے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور جو دوسری ٹیم کی جانب سے غلطیوں کا انتظار کرتی رہی۔

،تصویر کا ذریعہGetty
پہلے دن کے کھیل کے آغاز پر جب نیلے آسمان اور سلو پچ نے انگلینڈ کے اوپنروں کا استقبال کیا تو ایسا لگا جیسے مصباح الحق نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کر کے غلطی کی ہے۔
اگرچہ حال ہی میں ایجبیسٹن پر پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیمیں ہارتی رہی ہیں، پھر بھی ایسا لگا جیسے یہ پچ مختلف ہے۔
انگلینڈ نے وہی کیا جو اب تک کرتا آیا ہے، اننگز کا آغاز تیزی سے کرنا اور پھر ایلکس ہیلز کا آؤٹ ہو جانا۔ لیکن اس کے بعد حیرت انگیز بات یہ دیکھنے کو ملی کہ دونوں سٹار بیٹسمین بھی جلدی آؤٹ ہو گئے۔ جو روٹ نے ایک وائیڈ بال پر شاٹ کھیلنے کی کوشش کی اور وکٹوں کے پیچھے کیچ تھما بیٹھے۔ کپتان ایلسٹر کک خلافِ معمول تیزی سے سکور کرتے ہوئے راحت علی کا نشانہ بن گئے۔
اس کے بعد انگلینڈ کا نسبتاً کمزور مڈل آرڈر زد میں آ گیا لیکن اب کے گیری بیلنس اور جیمز وِنس کی باری تھی۔ دونوں سیریز میں کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھا پائے تھے، لیکن اس بار ڈٹ گئے۔ بیلنس نے خاص طور پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور لوئر آرڈر میں معین علی کے ساتھ مل کر سست روی سے سکور آگے بڑھایا۔
تاہم سب سے زیادہ تحمل پاکستانی بولر سہیل خان نے دکھایا جنھیں اس سیریز میں پہلی بار موقع دیا گیا تھا۔ وہ لمبے عرصے تک ٹیم کے حاشیے پر رہے ہیں، لیکن انھوں نے پاکستانی بولنگ میں ایک ایسی چیز متعارف کروائی جس کی اس سے قبل کمی تھی: مسلسل فل لینتھ بولنگ۔
یہی وجہ تھی کہ ایک ایسی وکٹ جہاں پہلے بیٹنگ کرنا زیادہ بہتر معلوم ہو رہا تھا، سہیل خان نے اپنے کپتان کے فیصلے کو صحیح ثابت کر دیا۔ وہ ہر سپیل میں اس وقت تک بولنگ کرواتے رہے جب تک بالکل نڈھال نہیں ہو گئے، لیکن انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ صرف انھی کی ٹیم غلطیاں نہ کرے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ میچ کسی بھی سمت جا سکتا ہے۔ انگلینڈ نے بڑا سکور کرنے کا موقع گنوا دیا ہے، تاہم انھیں اب بھی اعتماد ہو گا کہ وہ پاکستان کو کم سکور پر آؤٹ کر سکتے ہیں۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ پہلے دن کے کھیل کے بعد کسی فارمولا پلاٹ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔



