رونالڈو، میسی سے بہتر کیسے

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, غضنفر حیدر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
ان دونوں کھلاڑیوں کی رقابت ایسی ہی ہے جیسا کہ کرکٹ میں پاکستان اور بھارت، باکسنگ میں محمد علی اور جو فریزر اور فورمولا ون میں فیراری اور مکلارن۔
دونوں کی زندگی کی کہانیاں متاثر کن، دونوں کا فٹبال کا سفر حیرت انگیز اور ان کے اعزازات، ان کی کارکردگی اور عظمت کا ثبوت دیتے ہیں۔
لیکن میسی اور رونالڈو میں سے بہتر کون ہے؟ یہ وہ سوال اور بحث ہے جو کہ ہر فٹبال پنڈت اور چاہنے والوں کے تجزیوں اور ذہنوں میں رہا ہے۔
تکنیکی لحاظ سے زیادہ تر تجزیہ کار میسی کو بہتر تصور کرتے ہیں، لیکن کوئی بھی ایسا کھیل جس میں ٹیم پلے کا عنصر شامل ہو، اس میں صرف تکنیک کی بنیاد پر میچ نہیں جیتے جاتے۔
17 سال کی عمر میں میسی نے دنیا کے سب سے بڑے کلب بارسلونا کے ساتھ کھیلنا شروع کیا، حیرت انگیز کارنامہ۔ کچھ ہی عرصے میں، لا لیگا، بارسلونا اور ارجنٹینا کی طرف سے سب سے زیادہ گول کرنے کے اعزازات حاصل کیے، ان کی عظمت میں اور اضافہ ہوا۔
میسی ارجنٹینا کے وہ واحد کپتان ہیں جنھوں نے اپنی ٹیم کو چار اہم فائنل میں پہنچایا ہے۔ ان کی واحد بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ارجنٹینا کے لیے ایک بھی ٹورنامنٹ نہیں جیت پائے۔
اور آخر کار ’دلبرداشتہ‘ ہو کر انھوں نے پچھلے ہفتے ارجنٹینا کی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
کہتے ہیں سپورٹس مین جب کھیلنا شروع کرتے ہیں تب سے ان کے کیرئیر کے اختتام تک ان کو ایک ہی چیز سکھائی جاتی ہے، اور وہ ہوتی ہے ’نیور سے ڈائی‘ مطلب ’کچھ بھی ہو، ہار نہیں ماننی‘۔

،تصویر کا ذریعہGetty
اب اگر رونالڈو پر نظر ڈالیں تو اس کی کہانی شروع ہوتی ہے جب اس نے گیارہ سال کی عمر میں لزبن کلب سے کیرئیر کی ابتدا کی۔ میسی کے مقابلے میں بچپن میں رونالڈو نے زیادہ مشقت اور مشکلیں دیکھیں، ٹین کی چھت کے مکان میں رہنے والے رونالڈو کے والد شراب کی عادی ہوگئے تھے اور ان کی شراب کے حصول کے لیے اور گھر کا نظام چلانے کے لیے رونالڈو کی والدہ لوگوں کے گھروں میں صفائی کرتی تھیں۔
اپنی کتاب ’کرسچیانو رونالڈو: دی بائیوگرافی‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کے والد کو دیکھ کر سکول میں ان کے ساتھی ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ رونالڈو کہتے ہیں ’ان ساری چیزوں سے میرے حوصلے اور بلند ہوئے، مجھ میں کچھ کرنے کی اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کی لگن اور بڑھتی گئی، میں نے کبھی ہار نہیں مانی۔‘
پرتگال میں انھیں نیشنل ہیرو تصور کیا جاتا ہے، لیکن کل تک ان کے مداحوں کو ان سے وہی شکایات تھی جو کہ میسی کے مداحوں کو ہے۔ اور وہ یہ کہ رونالڈو نے کلب فٹبال میں بہت سے ٹائٹل جیتے ہیں، لیکن ملک کے لیے ایک بھی نہیں۔
میسی کی طرع ان کا فٹبال کا سفر بھی طویل اور مشکل تھا، میسی کی طرع رونالڈو نے بھی اپنے ملک اور قوم سے اعتراضات اور تنقید کا سامنا کیا۔ میسی کی طرع وہ بھی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔
دونوں کھلاڑیوں نے ایک ہفتہ پہلے تک زندگی کے ہر موڑ پر اور فٹبال کے ہر فارمیٹ میں سائے کی طرع ایک دوسرے کا پیچھا کیا ہے۔
لیکن اگر تھوڑا قریب سے معائنہ کیا جائے تو تکنیک اور اعزازات کے لحاظ سے میسی رونالڈو سے ہمیشہ تھوڑا سا ہی سہی لیکن آگے ضرور رہے ہیں۔
لیکن ایک ایسا میدان ہے جہاں رونالڈو نے میسی کو بہت پیچھے چھوڑا ہے۔
یہ وہی بات جو بچپن سے آخر تک کھلاڑیوں کو سکھائی جاتا ہے، وہی بات جو کسی بھی میچ سے پہلے کوچ اور مینیجر اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو بار بار بتاتا ہے۔

وہی سبق جسے اپنے پلے سے باندھ کر ٹنڈولکر نے پہلا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بیس سال سے زائد عرصہ انتظار کیا، وہی راستہ جس پر چل کر مائیکل جارڈن نے دنیا اور باسکٹ بال کی دنیا کا سب سے حیرت انگیز کم بیک کیا۔ اور اسی بات کے سہارے ٹینس لیجینڈ راجر فیڈرر، جو اب تک اپنے ملک کے لیے کوئی اعزاز نہیں حاصل کرسکے، کھیل رہے ہیں۔ یہ سبق ہے ’نیور سے ڈائی‘ کا جس کا مطلب ہے ’کچھ بھی ہو، ہار نہیں ماننی۔‘
یہ وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر کل رونالڈو پرتگال کے لیے یورو کپ اٹھانے والے پہلے پرتگالی کپتان بنے۔
مختصراً یہ کہ میسی نے انٹرنیشنل فٹبال سے بلآخر ہار مان کر ریٹائرمنٹ لے لی ، اور رونالڈو نے ہار نہیں ماننی اور مسلسل کوشش کرتے رہنے کے بعد یورو ٹرافی اپنے نام کی۔



