’ہاکی ٹیم سلیکشن میں منیجمنٹ کی مرضی شامل ہو‘

اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم سات ٹیموں میں پانچویں پوزیشن حاصل کرسکی تھی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم سات ٹیموں میں پانچویں پوزیشن حاصل کرسکی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ حنیف خان پاکستان ہاکی فیڈریشن پر واضح کردیا ہے کہ آئندہ ٹیم کا انتخاب مینجمنٹ کی مرضی سے ہونا چاہیے اور سلیکشن کمیٹی کو مکمل اختیار نہیں ملنا چاہیے۔

یاد رہے کہ اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ سے قبل سلیکشن کمیٹی اور کوچ حنیف خان کے درمیان ٹیم سلیکشن پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم سات ٹیموں میں پانچویں پوزیشن حاصل کرسکی۔

حنیف خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سلیکشن کمیٹی نے جو ٹیم منتخب کرکے مینجمنٹ کے حوالے کی تھی، اس میں اوریجنل رائٹ آؤٹ اور اوریجنل سینٹر فارورڈ ہی نہیں تھے۔اگر ان دونوں پوزیشنز پر صحیح سلیکشن ہوتی تو مثبت نتائج آسکتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی سب سے بڑی کمزوری دباؤ میں کھیلنے کا فقدان ہے۔

حنیف خان نے کہا کہ ٹیم کی وطن واپسی کے بعد انھوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر خالد کھوکھر اور سیکریٹری شہباز احمد سے بات کی ہے اور ان سے کہہ دیا ہے کہ آئندہ اس طرح کام نہیں چلے گا۔

’یہ نہیں ہوسکتا کہ محنت ٹیم مینجمنٹ کرے اور ٹیم کا سلیکشن آپ کریں۔ اگر کسی کھلاڑی کے سلیکشن پر اعتراض ہے تو اس کے ٹرائلز لے لیں لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ سلیکشن کمیٹی ٹیم مینجمنٹ کی دی ہوئی ٹیم کو یکسر مسترد کرکے یہ کہہ دے کہ اس نے جو ٹیم منتخب کرلی ہے وہی ٹورنامنٹ میں جائے گی۔‘

کوچ حنیف خان کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کی سب سے بڑی کمزوری دباؤ میں کھیلنے کا فقدان ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکوچ حنیف خان کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کی سب سے بڑی کمزوری دباؤ میں کھیلنے کا فقدان ہے

انھوں نے کہا کہ فیڈریشن یقیناً ٹیم سلیکشن کے معاملے پر مینجمنٹ پر نظر رکھے کہ وہ سلیکشن میں پسند نا پسند تو نہیں کررہی ہے لیکن وہ یہ بات پوری دیانتداری سے کہہ سکتے ہیں کہ ٹیم مینجمنٹ سلیکشن کے معاملے میں کسی غلط کھلاڑی کو نہیں منتخب نہیں کرسکتی کیونکہ وہ کارکردگی پر جواب دہ ہوتی ہے۔

حنیف خان نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی دو یا تین افراد پر مشتمل ہونی چاہیے اور یہ کمیٹی کیمپ کا دورہ کرتی رہے اور کھلاڑیوں پر نظر رکھتی رہے ۔ ’ہمارے یہاں تو سلیکشن اس طرح ہوتی ہے کہ صرف ٹرائلز والے دن سلیکٹرز آئے چائے بسکٹ سے تواضع ہوئی دستخط کیے اور گھر کی راہ لی۔‘

حنیف خان نے کہا کہ اگر پاکستان کو ہاکی میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے تو کھلاڑیوں کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا۔

’چھوٹے چھوٹے شہروں سے ٹیلنٹ سامنے لانا ہوگا۔ جونیئر سطح پر مقابلے کرانے ہونگے ۔ صرف کیمپ کے 30، 40 کھلاڑیوں میں سے ٹیمیں منتخب کرنے سے آپ ورلڈ چیمپئن نہیں بن سکتے۔‘