’جیت کے لیے محض حب الوطنی نہیں سہولیات بھی درکار ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ہاکی کے حالیہ عالمی مقابلے ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستانی ٹیم کے ناقص کارکردگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے جمعرات کے روز اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے اپنے پہلے اجلاس میں ہاکی ٹیم کے کوچ اور کپتان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں جس میں ہاکی ٹیم کے ذمہ داران نے کہا کہ ٹیم کو جیت کے لیے محض حب الوطنی نہیں بلکہ سہولیات بھی درکار ہوتی ہیں۔
بیوروکریٹ اعجاز چوہدری کی سربراہی میں یہ تحقیقاتی کمیٹی وزیراعظم کے حکم پر بنائی گئی ہے جسے کہا گیا ہے کہ وہ ورلڈ ہاکی لیگ میں پاکستانی ٹیم کی بری کارکردگی کی وجوہات جاننے کی کوشش کرے۔
پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں آٹھویں پوزیشن پر آیا تھا جس کی وجہ سے اس کے اگلے سال اولمپک کھیلنے کے امکانات بھی ختم ہو گئے ہیں۔
پاکستانی ہاکی ٹیم کے کوچ شہناز شیخ نے کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی ناقص کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ ہاکی پر رقم خرچ نہ کرنا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اگر کھلاڑیوں کو میچ سے زیادہ اپنا ڈیلی الاؤنس نہ ملنے کی فکر ہو گی تو وہ جیتیں گے کیسے؟
’ہماری ہار میں پیسوں کا سب سے اہم کردار ہے۔ مجھے ڈیڑھ سال سے تنخواہ نہیں ملی، یہی حال کھلاڑیوں کا بھی ہے۔ نہ کسی کھلاڑی کو سرکاری نوکری دی گئی ہے نہ معاہدہ کیا گیا ہے اور نہ ہی ڈیلی الاؤنس دیا جا رہا ہے۔ حب الوطنی سے کب تک کام چلایا جائے گا؟‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد عمران نے کہا کہ کھلاڑیوں کو کسی قسم کی سہولیات نہیں دی جا رہیں، ایسے میں ان سے بہتر کھیل کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
’ہماری شکست کی بڑی وجہ ہے کہ ہم اپنے کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم نہیں کر رہے۔ چار مہینے پہلے اسی ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی لیکن اب جبکہ نہ نوکری ہے نہ خرچہ ملتا ہے، ایسے میں کون کیا کارکردگی دکھائے گا۔‘
تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ اعجاز چوہدری نے کہا کہ ان تحقیقات کا مقصد حقائق جاننا ہے، کسی کی پگڑی اچھالنا یا لوگوں کو برطرف کرنا نہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ توقع نہ رکھی جائے کہ کمیٹی میں استعفے دیے جائیں گے یا لوگوں کو برطرف کیا جائے گا۔



