شیراپووا سفیرِ خیرسگالی کے عہدے سے معطل

مختلف کمپنیاں پہلے ہی ماریہ شراپووا کے ساتھ معاہدے معطل کر چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہROBYN BECK AFP

،تصویر کا کیپشنمختلف کمپنیاں پہلے ہی ماریہ شراپووا کے ساتھ معاہدے معطل کر چکی ہیں

اقوام متحدہ نے ٹینس سٹار ماریہ شیراپووا کو ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد خیر سگالی کے سفیر کے عہدے سے معطل کر دیا ہے۔

روس سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ماریہ شیراپووا کا جنوری میں میلڈونیم نامی دوا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد انھیں 12 مارچ سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ماریہ شیراپووا کو کسی بھی منصوبہ بندی کے تحت سرگرمیوں سے تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا ہے۔‘

یو این ڈی پی کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’شیراپووا اس عہدے پر سنہ 2007 سے فائز تھیں اور ہم ہمارے کام میں ان مدد کے شکرگزار ہیں۔‘

سابق نمبر ایک ماریہ شیراپووا کا کہنا تھا کہ وہ طبی وجوہات کی وجہ سے گذشتہ دس سالوں سے میلڈونیم نامی دواکا استعمال کر رہیں تھیں۔

پانچ بار گرینڈ سلیم کی فاتح نے کہا کہ وہ گذشتہ دس برسوں سے یہ دوا بعض طبی وجوہات کے سبب لے رہی تھیں اور اس دوا کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے یکم جنوری سے ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

کھیلوں کا سامان بنانے والی کمپنی نائیکی، سوئس گھڑی ساز کمپنی ٹیگ ہیور اور گاڑیاں بنانے والی کمپنی پورشے پہلے ہی ماریہ شیراپووا کے ساتھ اپنے معاہدے معطل کر چکی ہیں۔