کرکٹ ٹیم کے بھارت جانے کا انحصار سکیورٹی رپورٹ پر : وزیر داخلہ

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ دو طرفہ سیریز نہیں ہے بلکہ عالمی کپ مقابلے ہیں جس میں پاکستان کی شمولیت ضروری ہے
،تصویر کا کیپشنچوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ دو طرفہ سیریز نہیں ہے بلکہ عالمی کپ مقابلے ہیں جس میں پاکستان کی شمولیت ضروری ہے

پاکستان کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بھارت جانے والی سکیورٹی ٹیم کی جانب سے ابتدائی رپورٹ ملنے کے بعد پاکستان ٹیم کو بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کی منظوری کے بعد پیر کو سکیورٹی ٹیم بھارت روانہ ہوگی۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی ٹیم کی جانب سے اگر ابتدائی رپورٹ مثبت موصول ہوئی تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم ورلڈ ٹی 20 کے لیے بدھ کو شیڈیول کے مطابق بھارت بھیج دی جائے گی۔ ان کا کہنا جب تک حکومت پاکستان سکیورٹی کے حوالے سے مطمئن نہیں ہوگی کرکٹ ٹیم کو بھارت جانے کا گرین سگنل نہیں دیا جائے گا۔

چوہدری نثار علی خان کے مطابق اگر سکیورٹی کا مسئلہ برقرار رہا تو ٹیم کے روانہ ہونے میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں کم از کم آٹھ دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں جس پر انھیں تشویش ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ دو طرفہ سیریز نہیں ہے بلکہ عالمی کپ مقابلے ہیں جس میں پاکستان کی شمولیت ضروری ہے۔

چوہدری نثار علی خان کے مطابق اگر سکیورٹی کا مسئلہ برقرار رہا تو ٹیم کو کچھ دنوں کی تاخیر بھی ہوسکتی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچوہدری نثار علی خان کے مطابق اگر سکیورٹی کا مسئلہ برقرار رہا تو ٹیم کو کچھ دنوں کی تاخیر بھی ہوسکتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو سیاست اور تخریب کاری کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ کرکٹ ٹیم کو سکیورٹی فراہم کرنا آئی سی سی اور بھارتی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سکیورٹی سے مراد صرف ہوٹل یا دوران سفر سکیورٹی فراہم کرنا نہیں بلکہ گراؤنڈ میں جب کھلاڑی آئیں، تو ہزاروں کے مجمعے کے درمیان بھی انھیں سکیورٹی مہیا ہونی چاہیے۔

خیال رہے کہ ہماچل پردیش کی ریاستی حکومت نے بھارت اور پاکستان کے درمیان 19 مارچ کو دھرم شالہ میں ہونے والے عالمی کپ کے میچ میں پاکستانی ٹیم کو سکیورٹی دینے سے معذرت کی ہے۔

ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت ہے اور پارٹی کے ایک سینیئر وزیر جی ایس بالی بھی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر دھرم شالہ سے میچ منتقل نہیں کیا گیا تو وہ اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے۔