کرکٹ ٹیم سے پہلے سکیورٹی ٹیم بھارت بھیجنے کا فیصلہ

چوہدری نثار علی خان اس حوالے سے رپورٹ وزیراعظم محمد نواز شریف کو پیش کریں گے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچوہدری نثار علی خان اس حوالے سے رپورٹ وزیراعظم محمد نواز شریف کو پیش کریں گے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے وزارتِ داخلہ کو ایک ایڈوانس سکیورٹی ٹیم بھارت بھیجنے کی ہدایت کی ہے جو ورلڈ ٹی 20 مقابلوں کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کے بارے میں رپورٹ تیار کرے گی۔

وزیرِ اعظم ہاؤس سے جمعے کی شام جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بھارت جانے یا نہ جانے کے بارے میں فیصلہ اس رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔

بیان کے مطابق نواز شریف نے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کے دوران انھیں کہا کہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سے رابطہ کر کے ٹیم کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

نواز شریف سے ملاقات سے قبل چوہدری نثار نے بھی کہا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم فول پروف سکیورٹی کی ضمانت ملنے پر ہی بھارت جائے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو رواں ماہ کھیلے جانے والے عالمی ٹی 20 کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قومی ٹیم کو بھارت بھیجنے کی اجازت دے دی تھی۔

تاہم ہماچل پردیش کی ریاستی حکومت نے بھارت اور پاکستان کے درمیان 19 مارچ کو دھرم شالہ میں ہونے والے عالمی کپ کے میچ میں پاکستانی ٹیم کو سکیورٹی دینے سے معذرت کی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان 19 مارچ کو ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں شیڈول کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت اور پاکستان کے درمیان 19 مارچ کو ہماچل پردیش کے شہر دھرم شالہ میں شیڈول کیا گیا ہے

ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت ہے اور پارٹی کے ایک سینیئر وزیر جی ایس بالی بھی یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اگر دھرم شالہ سے میچ منتقل نہیں کیا گیا تو وہ اس کے خلاف تحریک شروع کریں گے۔

اس سے قبل ریاست کے وزیر اعلیٰ ویر بھدر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں آباد سابق فوجی میچ کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ پٹھان کوٹ کی ایئر بیس پر شدت پسندوں کے حملے میں مارے جانے والے دو فوجیوں کا تعلق اسی علاقے سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’علاقے میں بہت ناراضی ہے اور ہمارے لیے سکیورٹی فراہم کرنا بہت مشکل ہوگا۔۔۔اس علاقے میں رہنے والے فوجیوں کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کا میچ یہاں نہ ہو۔‘

خیال رہے کہ یہ غیر معمولی صورتحال ہے کیونکہ یہ شاید پہلی مرتبہ ہے کہ کانگریس کی کوئی ریاستی حکومت بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ کی مخالفت کر رہی ہے۔

بظاہر یہ فیصلہ آئی سی سی سے صلاح مشورے کے بعد بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ کو کرنا ہوگا، لیکن حتمی فیصلہ بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔