’سیپ بلیٹر کے خلاف اہم معلومات ملی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty
سوئٹزر لینڈ کے پراسیکیوٹرز کے مطابق راز افشا کرنے والے ایک شخص کی جانب سے دی گئی معلومات فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر کے خلاف مجرمانہ کیس میں’ مددگار‘ ثابت ہو سکتی ہیں۔
بلیٹر پر’ غیر قانونی طور پر رقم‘ لینے پر فٹبال سے متعلق آٹھ برس کی پابندی عائد ہے۔
اس کے علاوہ ان کے خلاف سوئس استغاثہ کی جانب سے مجرمانہ انتظامی نااہلی سے متعدد تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
سوئس اٹارنی جنرل کے دفتر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ’دفتر کو ایک عینی شاہد کی جانب سے معلومات ملی ہیں اور یہ بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
گذشتہ ماہ دسمبر میں ضابطہ اخلاق سے متعلق تحقیقات کے بعد فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر اور یوئیفا کے سربراہ میشل پلاٹینی پر آٹھ سال کی پابندی عائد کی گئی تھی۔
بلیٹر اور پلاٹینی پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر رقم لے کر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔
تاہم دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ رقم سنہ 1998 سے سنہ 2002 کے درمیان کام کے ایک معاہدے میں واجب الادا تھی اور اس وقت پلاٹینی بلیٹر کے تکنیکی معاون کے طور پر کام کرتے تھے۔
یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ رقم پلاٹینی سے کیے جانے والے تحریری معاہدے کا حصہ نہیں تھی بلکہ بلیٹر اور پلاٹینی کا اصرار ہے کہ یہ زبانی معاہدہ تھا جو کہ سوئس قانون کے تحت جائز ہے۔



