بلیٹر اور پلاٹینی پر سات سال کی پابندی متوقع

بلیٹر اور پلایٹنی جو یورپی فٹ بال تنظیم یوئیفا کے صدر بھی ہیں فی الوقت نوے دن کے لیے معطل ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنبلیٹر اور پلایٹنی جو یورپی فٹ بال تنظیم یوئیفا کے صدر بھی ہیں فی الوقت نوے دن کے لیے معطل ہیں

اگر بد عنوانی کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل صدر سیپ بلیٹر اور نائب صدر مائیکل پلاٹینی پر سات سال کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

<link type="page"><caption> فیفا کے صدر سیپ بلیٹر 90 دن کے لیے معطل</caption><url href="Filename: http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2015/10/151007_fifa_blatter_suspension_zs" platform="highweb"/></link>

فیفا میں اخلاقیات کے متعلق تفتیش کرنے والوں نے ساٹھ سالہ پلاٹینی اور اناسی سالہ بلیٹر پر ساڑھے تیرہ لاکھ پاؤنڈ لینے کے جرم میں پابندی کی تجویز دی ہے۔

پلاٹینی کی جانب سے وصول کی گئی اس رقم کے بارے میں کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے۔

توقع ہے کہ ضابطۂ اخلاق کی کمیٹی اپنا فیصلہ کرسمس تک سنا دی گی۔

بلیٹر اور پلایٹنی جو یورپی فٹ بال تنظیم یوئیفا کے صدر بھی ہیں فی الوقت نوے دن کے لیے معطل ہیں۔ دونوں نے کسی بھی قسم کے الزامات کی تردید کی ہے ان کے بقول ان کا ایک زبانی معاہدہ ہوا تھا۔

ان پر اضافی الزامات بھی ہیں جن میں بد انتظامی، حساب کتاب میں دھوکہ دہی اور ضابطۂ اخلاق کی کمیٹی کے ساتھ تعاون میں ناکامی شامل ہیں۔

اس کمیٹی کے جج جرمن ہیں اور انھوں نے پیر کو مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع کی جس کا فیصلہ اگلے ماہ تک ہی آئے گا۔

فیفا کا کہنا ہے کہ رپورٹس کو احتیاط سے پڑھا گیا ہے اور وہ مجوزہ پابندیوں کے حوالے سے تفیصلات عام نہیں کریں گے تاہم کمیٹی نے کم سے کم سات سال کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔