فیفا کے معطل صدر ہسپتال میں داخل

،تصویر کا ذریعہGetty

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر کو اعصابی دباؤ کے باعث ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔

79 سالہ بلیٹر 18 سال تک فیفا کے صدر رہے۔ کرپشن سکینڈل کے باعث انھیں گذشتہ ماہ 90 روز کے لیے ان کے عہدے سے معطل کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق وہ اعصابی دباؤ کا شکار ہیں لیکن توقع ہے کہ وہ جلد ہی صحت یاب ہو جائیں گے۔

بلیٹر اگلے ہفتے منگل کے روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہیں گے۔

گذشتہ ہفتے انھوں نے ذہنی دباؤ کے باعث اپنا طبی معائنہ کروایا تھا۔

ان کے وکیل رچارڈ کالن نے پانچ دن قبل کہا تھا کہ بلیٹر کو ذہنی دباؤ کے باعث اپنا طبی معائنہ کرنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’وہ ٹھیک ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد گھر لوٹ جائیں گے۔‘

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے سیپ بلیٹر اور تنظیم کے نائب صدر مشل پلاٹینی کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا ہے۔

فیفا تقریباً ایک برس سے بدعنوانی کے الزامات میں گھری ہوئی ہے اور گذشتہ ماہ سوئس استغاثہ نے بلیٹر پر ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کا الزام لگایا تھا جو ’فیفا کے حق میں نہیں تھا۔‘

اس کے علاوہ ان پر یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی کو ’بے جا رقم دینے‘ کا بھی الزام لگایا گیا ہے تاہم بلیٹر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلیٹر ’اخلاقی کمیٹی کے فیصلے کے خلاف پوری طرح لڑ رہے ہیں‘ اور انھوں نے اپنے دوستوں سے کہا ہے کہ ’کوئی کمیٹی مجھے گیم سے باہر نہیں نکال سکتی ہے۔‘

سنہ 2016 کی 26 فروری کو فیفا کے صدارتی انتخابات میں سات امیدوار کھڑے ہو رہے ہیں۔