سیپ بلیٹر اپنی معطلی کے خلاف اپیل کریں گے

،تصویر کا ذریعہReuters
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر فیفا کی گورننگ باڈی کی جانب سے خود پر عائد 90 روزہ معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے جا رہے ہیں۔
79 سالہ بلیٹر کو سیکریٹری جنرل ژیروم والک اور نائب صدر مائیکل پلاٹینی کے ہمراہ فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے جمعرات کو 90 دن کے لیے عہدے سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
معطل ہونے والے تینوں عہدیداروں نے کسی بھی قسم کی بدعنوانی کو مسترد کیا ہے جبکہ پلاٹینی نے معطلی کے خلاف ’اپیل صحیح وقت اور صحیح طریقے سے کرنے کا کہا ہے۔‘
سیپ بلیٹر کے دوست اور مشیر کلاس سٹوہکلر کا کہنا ہے کہ ’بلیٹر پہلے ہی فیفا کی اپیل کمیٹی میں اپیل کر چکے ہیں، وہ اپنے عہدے کا دفاع کر رہے ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ بے گناہ ثابت ہو جائیں گے۔‘
ادھر فیفا نے بلیٹر کی معطلی کے عرصے کے لیے تنظیم کی سربراہی افریقہ فٹبال کنفیڈریشن کے سربراہ عیسیٰ حیاتو کو سونپ دی ہے۔
بلیٹر کی معطلی ان کے خلاف سوئس اہلکاروں کی جانب سے گذشتہ ماہ سے جاری فوجداری تحقیقات کے آغاز کے تناظر میں کی گئی ہے۔
ان پر ایسے معاہدوں پر دستخط کرنے کا الزام ہے جو فیفا کے لیے ’سازگار‘ نہیں تھے اور انھوں نے پلاٹینی کو ’غیر قانونی طور پر رقم ادا کی۔‘
فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے پلاٹینی کے خلاف 20 لاکھ یوروز کی علیحدہ تحقیقات کا آغاز بھی کیا ہے جو پلاٹینی نے بلیٹر کے لیے کام کرنے کے نو سال بعد بنائے تھے۔
والک گذشتہ ماہ اخبارات میں آنے والی الزامات کے بارے میں خبروں کے بعد سے پہلے ہی چھٹیوں پر گئے ہوئے تھے۔ ان پر فٹبال کے ورلڈ کپ کے دوران ٹکٹوں کی فروخت سے منافع کمانے کے الزامات ہیں۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’میرے موکل پراعتماد ہیں کہ انھیں ان غلط الزامات سے بری قرار دیا جائے گا۔‘



