’بےگناہی کا ثبوت دینے کا موقع ملنے کا منتظر ہوں‘
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر نے کہا ہے کہ وہ اپنی معطلی کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
79 سالہ بلیٹر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اپیل میں ثبوت دیں گے کہ وہ کسی بدعنوانی یا بےضابطگی میں ملوث نہیں رہے۔
<link type="page"><caption> فیفا کے صدر کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کا آغاز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/09/150925_fifa_president_quiz_as.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سیپ بلیٹر کا فیفا کی صدارت نہ چھوڑنے کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/09/150928_fifa_blatter_probe_fa.shtml" platform="highweb"/></link>
بلیٹر کے وکلا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ بلیٹر کے لیے معطلی کا فیصلہ ’مایوس کن‘ ہے۔ بیان کے مطابق ’بلیٹر وہ ثبوت دینے کا موقع ملنے کے منتظر ہیں جو یہ ثابت کریں گے کہ وہ کسی مجرمانہ یا دیگر کسی قسم کی بےضابطگی میں ملوث نہیں تھے۔‘
فیفا کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے جمعرات کو سیپ بلیٹر کو 90 دن کے لیے صدر کے عہدے سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بلیٹر کی معطلی ان کے خلاف سوئس اہلکاروں کی جانب سے گذشتہ ماہ سے جاری فوجداری تحقیقات کے آغاز کے تناظر میں کی گئی ہے۔
فٹبال کی عالمی تنظیم سے بلیٹر کے علاوہ دیگر دو اہم عہدیداروں بھی معطل کیا گیا ہے اور ان میں تنظیم کے نائب صدر مائیکل پلاٹینی اور سیکریٹری جنرل جیروم ویلک شامل ہیں۔
ان تینوں افراد پر معطلی کے عرصے کے دوران فٹبال کی کسی سرگرمی میں شرکت پر پابندی لگائی گئی ہے۔
یوئیفا کے سربراہ مائیکل پلاٹینی نے بھی خود پر عائد الزامات کو حیران کن حد تک مبہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بدلے کی خواہش یا ناانصافی کے احساس سے زیادہ اپنے آپ کا دفاع کرنے کے لیے ان الزامات کا مقابلہ کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یورپی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انھیں پلاٹینی پر مکمل اعتماد ہے لیکن وہ فی الوقت اپنی انتظامی ذمہ داریاں ادا نہیں کریں گے۔
تاہم یوئیفا نے پلاٹینی کی معطلی کے عرصے میں کسی عبوری سربراہ کی تقرری کا امکان رد کر دیا ہے۔
ادھر فیفا نے بلیٹر کی معطلی کے عرصے کے لیے تنظیم کی سربراہی افریقہ فٹبال کنفیڈریشن کے سربراہ عیسیٰ حیاتو کو سونپی ہے۔
فٹبال کا عالمی منتظم ادارہ تقریباً ایک برس سے بدعنوانی کے الزامات میں گھرا ہوا ہے اور گذشتہ ماہ سوئس استغاثہ نے بلیٹر پر ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کا الزام لگایا تھا جو ’فیفا کے حق میں نہیں تھا۔‘
اس کے علاوہ ان پر مائیکل پلاٹینی کو ’بے جا رقم دینے‘ کا بھی الزام لگایا گیا ہے تاہم بلیٹر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔



