سیپ بلیٹر کا خود پر عائد پابندی اٹھانے کا مطالبہ

،تصویر کا ذریعہGetty
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے معطل شدہ صدر سیپ بلیٹر نے ان پر فٹبال سے متعلق سرگرمیوں میں شرکت پر عائد عارضی پابندی اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلیٹر جمعرات کو تنظیم کی ضابطۂ اخلاق کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جو ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
سماعت کے بعد بلیٹر کے وکیل رچرڈ کلن نے کہا ہے کہ ثبوت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سیپ بلیٹر کے اقدامات فیفا کے ضابطۂ اخلاق کے خلاف نہیں تھے۔
انھوں نے سیپ بلیٹر کے خلاف جاری تحقیقات بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ ضابطۂ اخلاق کمیٹی نے سوئس حکام کی جانب سے سیپ بلیٹر کے خلاف یورپی فٹبال کے سربراہ مشل پلاٹینی کو 2011 میں 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے معاملے میں فوجداری تحقیقات کے آغاز کے بعد رواں برس اکتوبر میں بلیٹر کو 90 دن کے لیے معطل کر دیا تھا۔
بلیٹر کے علاوہ پلاٹینی بھی اسی عرصے کے لیے معطل کیے گئے تھے۔
79 سالہ بلیٹر جنھوں نے 1998 سے فیفا کے انتظامات سنبھالے ہوئے تھے ہمیشہ ہی کسی بھی قسم کے ناجائز عمل سے انکار کرتے آئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty
چار ججوں پر مشتمل ضابطۂ اخلاق کمیٹی اس معاملے پر آئندہ ہفتے فیصلہ سنانے والی ہے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر فیصلہ بلیٹر کے خلاف آیا تو ان کی فٹبال سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں شرکت پر طویل عرصے کے لیے پابندی لگ سکتی ہے۔
خیال رہے کہ بلیٹر آئندہ برس 26 فروری کو تنظیم کی صدارت چھوڑ رہے ہیں۔
دریں اثنا سوئٹزرلینڈ میں حکام نے فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا سے مبینہ طور پر منسلک 50 سوئس بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔
سوئس وزارتِ انصاف کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کو شبہ ہے کہ ’رشوت کے لیے دی گئی رقم‘ ممکنہ طور پر ان اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئی تھی۔
ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق جو اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں ان میں پانچ سے دس کروڑ سوئس فرانک موجود تھے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق فٹبال کی عالمی تنظیم میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے امریکی حکام نے سوئس حکام سے دس بینکوں میں کھولے گئے 50 اکاؤنٹس منجمد کرنے کو کہا تھا۔
سوئس اخبار تاجیز آنزیگر کا کہنا ہے کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فیفا کے کئی عہدیداران کے سوئس بینکوں میں اکاؤنٹ ہیں جن میں جنوبی امریکی کنفیڈریشن کے سربراہ نکولس لیؤز بھی ہیں جن کے 12 ایسے اکاؤنٹ موجود ہیں۔



