دس کروڑ ڈالر کے سکینڈل میں بلیٹر کا کردار کیا تھا؟

سنہ 2013 میں بلیٹر نے تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رشوت خوری کے عمل سے لاعلم ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 میں بلیٹر نے تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رشوت خوری کے عمل سے لاعلم ہیں

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ امریکہ کا وفاقی تحقیقاتی ادارہ، ایف بی آئی یہ تحقیقات کر رہا ہے کہ دس کروڑ ڈالر رشوت کے سکینڈل میں فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کا کیا کردار تھا۔

کھیلوں کی مارکیٹنگ کمپنی آئی ایس ایل نے دس کروڑ ڈالر فیفا کے سابق صدر جواؤ ہیولینج اور سابقہ ایگزیکٹیو ریکارڈو ٹیازیریا کو دیے تھے۔

اس کے بدلے میں انھیں 90 کی دہائی میں مارکیٹنگ رائٹس اور سود مند گرانٹ ملی تھی۔

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر نے اس سکینڈل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا اور اس کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے کو بھی کہا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو جینگز نے ایف بی آئی سے ایک خط حاصل کیا ہے جس سے بلیٹر کے انکار پر شک پیدا ہوتا ہے۔

اس خط میں ایف بی آئی نے سوئس حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان کی تحقیقات میں مدد کریں۔ اور اس سے قبل آئی ایس کی رشوت خوری کی تحقیقاتی رپورٹ دیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پراسیکیوٹر بلیٹر کے متعلق جواؤ ہیولینج کے بیان کو بھی دیکھ رہا ہے۔

سنہ 2010 میں بلیٹر نے سوئس حکام کی جانب سے ہیولینج اور ٹیزیریا کے خلاف ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ کو دبا دیا تھا۔

سنہ 2013 میں بلیٹر نے تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ وہ کسی بھی رشوت خوری کے عمل سے لاعلم ہیں۔

بلیٹر نے فروری 2016 میں خود پر لگے الزامات ک ماننے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ فیفا کی صدارت چھوڑ دیں گے۔