پاکستانی فٹبالر عادل مالٹا کے کلب کی جانب سے کھیلیں گے

- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فٹبالر محمد عادل کو مالٹا کے فٹبال کلب پیمبروک ایتھلیٹا نے کھیلنے کی دعوت دی ہے۔
محمد عادل اس سے قبل کرغستان کے کلب ڈورڈئی کی طرف سے دو سال کھیلے تھے اور ان کی غیرمعمولی کارکردگی سے متاثر ہوکر پیمبروک نے انہیں مالٹا بلایا ہے جہاں وہ ٹرائلز دینے کے بعد مالٹا کی پریمئر لیگ میں حصہ لیں گے۔
بائیس سالہ محمد عادل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ کسی یورپی ملک کے کلب نے انہیں کھیلنے کا موقع فراہم کیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس سے ان کے کھیل میں مزید بہتری آئے گی۔
واضح رہے کہ محمد عادل کے ساتھ ڈورڈئی کلب کی نمائندگی کرنے والے ایک اور پاکستانی فٹبالر کلیم اللہ ان دنوں امریکہ میں پروفیشنل فٹبال کھیل رہے ہیں۔
محمد عادل کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فٹبال تباہ و برباد ہوچکی ہے اور ایسے میں یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں ملک سے باہر اپنی صلاحیتوں کےاظہار کا موقع مل رہا ہے۔
محمد عادل کہتے ہیں کہ پاکستانی فٹبال میں اختیارات کی جنگ نے فٹبالرز کی مایوسی کو انتہا پر پہنچادیا ہے کیونکہ انہیں کھیلنے کے مواقع بھی نہیں مل رہے ہیں اور معاشی طور پر بھی وہ مشکلات سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ پاکستانی فٹبال ٹیم بھارت میں ہونے والی ساف چیمپئن شپ میں حصہ نہ لے سکی جس کی وجہ سے دو سال بعد پاکستان کو اس چیمپئن شپ کی میزبانی کا موقع بھی ہاتھ سےنکل گیا۔
انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک تواتر سے انٹرنیشنل اور دوستانہ میچز کھیل رہے ہیں لیکن پاکستانی فٹبالرز ان میچوں کو ترس رہے ہیں۔

محمد عادل نے کہا کہ ڈورڈئی کلب سے کھیلنے کا تجربہ ان کے لیے بہت مفید رہا۔ گذشتہ سال انہوں نے آٹھ گول کیے جبکہ پندرہ گول ان کی کوششوں سے بنے تھے۔
محمد عادل کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت رہی ہے۔
بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان فٹبالر نے زمانہ طالبعلمی میں والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے پھل بھی بیچے لیکن فٹبال سے جنون انہیں آگے بڑھاتا گیا اور وہ پہلے پاکستان الیکٹرون لمیٹڈ اور پھر کے آر ایل کی ٹیم میں شامل ہوئے۔
پاکستان کے انتہائی تجربہ کار کوچ طارق لطفی کا کہنا ہے کہ محمد عادل باصلاحیت کھلاڑی ہیں جن کے پاس سپیڈ اور بال کنٹرول ہے اور وہ کسی بھی ٹیم کے دفاع کے لیے مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔



