’حفیظ اور اظہر کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے کہا ہے کہ وہ ’سپاٹ فکسنگ‘ میں سزا یافتہ فاسٹ بولرمحمد عامر کی مخالفت کرنے والے کرکٹرز اظہرعلی اور محمد حفیظ سے بات کریں گے تاہم اگر وہ نہیں مانے تو ان کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔
<link type="page"><caption> ’ایسے کھلاڑی کے ساتھ نہیں کھیل سکتا جس نے ملک کو بدنام کیا ہو‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/11/151120_hafeez_refuse_to_play_aamir_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’عامر بولنگ کرنا جانتا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/12/151204_bring_back_amir_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
شہریارخان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے پر پہلے بھی سب سے بات کرچکے ہیں اور اب دوبارہ کریں گے لیکن ان کے نہ ماننے کی صورت میں دیکھا جائے گا کہ ان کے خلاف ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کیا کارروائی ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے ون ڈے کپتان اظہرعلی اور محمد حفیظ نے محمد عامر کی موجودگی میں قومی کیمپ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے بائیکاٹ کردیا ہے۔
یہ کیمپ لاہور میں جاری ہے جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کو بھی شامل کیا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ آئندہ ماہ نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم میں شامل کر لیے جائیں گے۔
ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے متعدد کرکٹرز کو جمعرات کے روز کیمپ میں شمولیت اختیار کرنی تھی تاہم ون ڈے کپتان اظہرعلی اور محمد حفیظ نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں ملک کی بدنامی کا سبب بننے والے کرکٹرز کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیل سکتے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
محمد حفیظ شروع سے محمد عامر کے بارے میں انتہائی سخت موقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور انھوں نے بنگلہ دیشی لیگ میں بھی اس ٹیم کی طرف سے کھیلنے سے انکار کردیا تھا جس میں محمد عامر شامل تھے۔
ون ڈے کپتان اظہرعلی کا اس بارے میں سخت موقف پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے زیادہ پریشانی کا سبب بنا ہے۔
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان کے ٹیسٹ کپتان مصباح الحق بھی محمد عامر کی واپسی پر سخت تحفظات رکھتے ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر کی مخالفت کرنے والے کرکٹرز کو منانے کی ذمہ داری ہیڈ کوچ وقاریونس کو سونپی تھی لیکن محمد حفیظ اور اظہرعلی نے ان پر یہ بات واضح کردی کہ اگر یہ محمد عامر کو واپس لانے کی پالیسی پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنائی تھی تو چیئرمین شہریارخان کو پہلے تمام کھلاڑیوں کے تحفظات دور کرنے چاہیے تھا۔



