’سپر لیگ پاکستانی کرکٹ کے لیے جیت ہی جیت‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان سپر لیگ میں شامل پانچ ٹیموں کے کھلاڑیوں کا انتخاب مکمل ہو گیا ہے اور اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان کا کہنا ہے کہ پانچوں ٹیمیں متوازن ہیں اور اس لیگ میں ہونے والے مقابلے دلچسپ ہوں گے۔
<link type="page"><caption> ’کراچی نے ٹیم نہیں بنائی، مذاق کیا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/12/151221_psl_draft_trend_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> کس کھلاڑی کی کتنی قیمت؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/12/151221_psl_players_worth_as.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار کے بارے میں کسی قسم کے نقص یا خامیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار انتہائی مناسب تھا اور کھلاڑیوں کو مختلف زمروں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
سابق کھلاڑی اور کرکٹ کے تجزیہ کار رمیز راجہ نے کھلاڑیوں کی بولی لگانے کے بجائے ’ڈرافٹنگ‘ کے طریقہ کار پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ متوازن ٹیموں کے انتخاب میں یہ طریقہ کار انتہائی مناسب تھا۔
انھوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار انڈین پریمیئر لیگ میں کھلاڑیوں کی بولی لگانے سے مختلف ہے اور اس سے پورے سلسلے کو قابو میں رکھنا آسان ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی فرنچائز یا ٹیموں کے خریدار بھی ناتجربہ کار ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ تجریہ اور اعتماد حاصل ہو جائے گا جس کے بعد بولی کا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPSL
بولی کے طریقہ کار پر رائے دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس میں اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ جس فرنچائز کے پاس زیادہ پیسہ ہے وہ تمام اچھے کھلاڑی خرید لے اور باقی ٹیمیں کمزور رہ جائیں۔
کھلاڑیوں کو ملنے والے معاوضے کے بارے میں شہر یار خان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو اچھا خاصا معاوضہ ملے گا جو ایک سال کے لیے ہو گا اور آئندہ سال دوبارہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہو گا۔ انھوں نے اس تاثر کو رد کر دیا کہ پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کو اس میں موقع نہیں ملے گا۔
انھوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑی جن میں سرفراز، عماد وسیم اور رضوان شامل ہیں ان کو ٹیموں میں شامل کر لیا گیا ہے۔
اس لیگ میں شامل ایک ٹیم کی ملکیت ایک ٹی چینل کے مالک کے پاس ہونے کے حوالے سے ایک سوال پر سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے مالک نے کہا ہے کہ وہ تمام ٹیموں کو اپنی نشریات میں یکساں وقت دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد باقی ادارے بھی اپنے آپ کو کسی نہ کسی ٹیم سے وابستہ کریں گے اور یہ ٹورنامنٹ کے لیے بہت مفید ثابت ہو گا۔
رمیز راجہ کا اس ٹورنامنٹ کا ملک سے باہر ہونے کے بارے میں کہنا تھا کہ پاکستان کے کھلاڑیوں کو ایک بہتر ماحول اور صحت مند ماحول میں کرکٹ کھیلنے کو ملے گی جس سے ان کو تجربہ اور اعتماد حاصل ہو گا۔ اس ٹورنامنٹ کے انعقاد سے بین الاقوامی کھلاڑیوں اور فرنچائز کے درمیان روابط مستحکم ہوں گے اور یہ روابط ہی انھیں آگے چل کر پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا یہ ٹورنامنٹ بین الاقوامی کرکٹ کو پاکستان واپس لانے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔
رمیز راجہ نے کہا پاکستان سپر لیگ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی کرکٹ کے لیے ’وِن وِن‘ یا جیت ہی جیت کی صورت حال ہے۔



