فتح گر کھلاڑی یا کھوٹے سکے؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انگلینڈ کےخلاف ٹی 20 سیریز کے تینوں میچوں میں پاکستانی ٹیم کی شکست کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ یہ غلط سیلیکشن کا نتیجہ ہے یا یہ کہ جن کھلاڑیوں کاانتخاب کیاگیا وہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر سکے؟
بظاہر دونوں باتیں غلط نہیں ہیں۔
پاکستانی ٹیم جن کھلاڑیوں پر مشتمل تھی ان میں اکثریت انٹرنیشنل کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے کھلاڑیوں کی تھی اور جو نئے کھلاڑی تھے وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔
اگر ہم سینیئر کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس میں مستقل مزاجی کا فقدان تھا۔
شعیب ملک، محمد حفیظ، عمراکمل اور احمد شہزاد کی بیٹنگ میں تسلسل نہیں کیونکہ وہ ایک اچھی اننگز کے بعد پھر پرانی ڈگر پر آجاتے ہیں۔
شعیب ملک کی آخری میچ میں 75 رنز کی اننگز ان کے اگلے سیلیکشن کے لیے یقیناً ایک اہم دلیل اور جواز کے طور پر پیش کی جائےگی لیکن اس بات کو شاید کوئی یاد نہیں رکھےگا کہ یہ اننگز پاکستانی ٹیم کو آخری اوور میں میچ نہیں جتوا سکی تھی کیونکہ 67 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز اور کئی ملکوں میں لیگ کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے شعیب ملک آخری اوور میں آؤٹ ہوکر جیتنے کی امید بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہafp
عمراکمل بھی 68 ٹی 20 انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں ۔انھیں بہت برا لگتا ہے جب ان کی خراب کارکردگی پر ان کا موازنہ انھی کے ہم عصر وراٹ کوہلی سے کیا جاتا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر عمر اکمل وراٹ کوہلی نہ سہی خود عمراکمل بن کر ہی کھیلتے رہتے تو آج وہ ایک کامیاب بیٹسمین ہوتے لیکن میدان سے باہر کے تنازعات میں الجھ کر وہ اپنے اصل کام سے خود کو بہت دور کر چکے ہیں۔
انگلینڈ کے خلاف تینوں ٹی 20 میچوں میں انھوں نے جس طرح اپنی وکٹ گنوائی اس کے بعد ان کے لیے ٹیم میں اپنی جگہ بچانا آسان نہیں۔
یہ اور بات ہے کہ کپتان کا ووٹ سیلیکشن کے وقت ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر ان کے حق میں چلا جائے۔
یہی صورت حال احمد شہزاد کے معاملے میں بھی ہے جو اس دورے میں صرف ٹی 20 سیریز میں کھیلے لیکن دو میچوں میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔
محمد حفیظ نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شاندار بیٹنگ کی تھی ۔پہلے ون ڈے میں سنچری کے بعد اگلے میچوں میں ان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ تھیں لیکن ان میچوں میں وہ خلاف توقع ناکام رہے بلکہ ان کی رن آؤٹ کی عادت نے نہ صرف ان کا اعتماد متزلزل کر دیا بلکہ اس سے ٹیم بھی متاثر ہوئی۔
اس پورے دورے میں حفیظ تین مرتبہ رن آؤٹ ہوئے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ دو سال سے وہ 17 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیل کر ایک بھی نصف سنچری نہیں بناسکے ہیں جو اوپر کے نمبر پر بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین کے لیے تشویش کی بات ہے۔
سیلیکشن کی بھول بھلیوں میں سہیل تنویر کا سیلیکشن ہمیشہ یہ سوال ذہنوں میں چھوڑ جاتا ہے کہ یہ کیا گیڈرسنگھی ہے؟۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سہیل تنویر 62 ون ڈے اور 50 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل کر بھی اپنی شناخت قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کرکٹر کے طور پر کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں حالانکہ وہ ایسے کرکٹر ہیں جنھیں مستقل مواقع مل رہے ہیں لیکن ایک دو اچھی بولنگ کے سوا ان کے غیرمتاثرکن اعداد و شمار اور مایوس کارکردگی ان کی سیلیکشن کا دفاع کرتے نظر نہیں آتے ۔
اس سال آٹھ ٹی 20 میچوں میں انھوں نے ہر اوور میں اوسطاً 7.7 رنز دیے ہیں۔
سہیل تنویر بولنگ اور فیلڈنگ کے علاوہ بیٹنگ میں بھی خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ انھیں متعدد بار ٹیم کو جتوانے کا موقع ہاتھ آیا لیکن وہ اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
گذشتہ ایک سال کے دوران ایسے دو ون ڈے اور تین ٹی 20 انٹرنیشنل ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں سہیل تنویر آخری اوور میں کریز پر موجود رہنے کے باوجود پاکستانی ٹیم کو نہ جتوا سکے۔



